Urdu book · اسفارِ ہند

مدراس کا سفر

Urdu book, p. 160

By Maulana Wahiduddin Khan

بڑھائی جائے۔ اخلاقی اقدار پیدا کی جائیں۔ اسی طرح ایک اور سوال یہ تھا کہ سلمان رشدی کے خلاف موت کا فتویٰ جو ایران کے مذہبی لیڈر نے دیا تھا، اس کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے۔ اس کے جواب میں ڈاکٹر نصیف کا حسب ذیل جواب میں نقل کیا گیا ہے : Some people, in emotion, pass these resolutions. I think that today we must promote human rights. The death penalty should be only for criminals who commit the crime of killing people. But otherwise, human rights should be given to everybody. یہ بات اگر ہندوستان یا پاکستان کا کوئی شخص کہے تو نام نہاد علما اس کے قتل کا یا کم از کم اس کو کوڑا مارنے کا فتویٰ صادر کر دیں گے۔ مگر یہی پر جوش حامیانِ اسلام اس وقت خاموش رہتے ہیں جب کہ وہ سعودی عرب کے کسی ذمہ دار شخص کی طرف سے کہی گئی ہو۔ کیسا عجیب ہو گا وہ اسلام جو بھارت جیسے ملک میں کچھ اور ہو اور پیٹرول ڈالنے والے ملک میں پہنتے ہی کچھ اور ہو جائے۔ بمبئی میں ہمارے ساتھی ایئر پورٹ پر موجود تھے۔ تاہم پروگرام کے مطابق ، آج پونہ جانا تھا۔ بمبئی میں دو گھنٹے گزار کر بذریعہ کار پونہ کے لئے روانگی ہوئی۔ مسٹر شانتی لال مو تھانے مجھ کو پیچھے کی سیٹ پر لٹا دیا۔ تقریباً ایک گھنٹہ کے بعد اٹھ کر بیٹھ گیا۔ میں باہر کی طرف دیکھ رہا تھا۔ شانتی لال مو تھانے پوچھا کہ آپ کو کیا چاہئے ۔ کیا چائے یا کولڈ ڈرنک وغیرہ۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ میں دیکھ رہا تھا کہ سڑک کے کنارے کوئی مسجد ہو تو اتر کر نمانہ پڑھ لوں۔ انھوں نے کہا کہ مسجد تو ابھی ہمارے پیچھے تھی۔ فوراً گاڑی روک کر پیچھے کی طرف لے گئے۔ اور مسجد کے پاس اس کو کھڑا کر دیا۔ میں نے اتر کر وہاں نماز پڑھی اور پھر ہم لوگ آگے کے لئے روانہ ہوئے۔ مغرب کے وقت ہم لوگ پونہ پہنچ گئے ۔ یہاں پہلے مسٹر شانتی لال مو تھا کے آفس میں ٹھہرا۔ کچھ دیر بعد جناب عبد الصمد صاحب اور جناب محمد یونس صاحب آگئے ۔ ان لوگوں کے ساتھ میں نیوا یرا کالونی میں آگیا۔ یہاں میرا قیام محمد یونس صاحب کے مکان پر تھا۔ پونہ کے کئی لوگ خبر سن کر یہاں آگئے۔ رات ساڑھے گیارہ بجے تک ان لوگوں سے بات ہوتی رہی۔ میں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ ہند و مسلم تعلقات میں زیادہ سے زیادہ اضافہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page