مدراس کا سفر
Urdu book, p. 161
By Maulana Wahiduddin Khan
کی ضرورت ہے۔ اکثر مسلمان ایسا کرتے ہیں کہ وہ برادران وطن کو حلقوں اور جماعتوں میں تقسیم کرکے دیکھتے ہیں۔ یہ آر ایس ایس کا آدمی ہے۔ یہ کانگریس کا آدمی ہے۔ یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا آدمی ہے۔ یہ اس جماعت کا آدمی ہے۔ یہ اُس جماعت کا آدمی ہے۔ اس قسم کی سوچ سراسر بے بنیاد ہے۔ صحیح اسلامی بات یہ ہے کہ تمام لوگوں کو انسان کی نظر سے دیکھا جائے۔ جماعتی تعلق ہمیشہ اضافی ہوتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہرایک انسان ہے۔ اور ہر ایک کے ساتھ انسان کے اعتبار سے معاملہ کرنا چاہئے ۔ ۱۸ فروری ۱۹۹۳ آج فجر کی نماز نیو ایران (پونہ) کی مسجد میں پڑھی۔ امام صاحب نے آخری رکعت میں قرآن کا جو حصہ پڑھا، اس کی آخری آیت یہ تھی: وَ اصْبِرُو مَا صَبْرُكَ الاَّ بِاللَّهِ وَلاَ تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلاَ تَكُ فِي ضَيْقٍ مِمَّا يَمْكُرُونَ۔ ان الله مع الذين اتقوا والذين هم محسنون (النحل ۲۸- ۱۲۸) نماز کے بعد کچھ لوگ میری قیام گاہ پر اکٹھا ہو گئے۔ میں نے مذکورہ آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کے اس بیان پر غور کیجئے تو اس میں آپ کو موجودہ حالات کے اعتبار سے بہت بڑا سبق ملے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے اس طرح بنائی ہے کہ یہاں ہمارا اصل مسئلہ ہمارے خلاف سازش کی موجودگی نہیں ہوگی۔ بلکہ اصل مسئلہ خود ہمارے اندر صبر اور تقویٰ اور حسن عمل کی غیر موجودگی ہوگی۔ گویا یہاں سارا معاملہ خود ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔ ہمیں باہر کی سازشوں پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ خود اپنے اندر تقوی اور صبر اور حسن عمل کی صفت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر داخلی سطح پر ہمارے اندر یہ اوصاف موجود ہوں تو اس کے بعد تمام بیرونی مسائل اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ پونہ کے تعلیم یافتہ افراد میری رہائش گاہ پر آتے رہے اور ان سے مختلف قسم کے دینی اور ملی امور پر باتیں ہوتی رہیں۔ عبد القادر عبد الغنی صاحب (۳۵ سال) نے گفتگو کے دوران کہا کہ آج کا مسلمان جھگڑا بالکل نہیں چاہتا۔ آج اگر مسلمان لیڈر کسی جھگڑے والی بات کے لئے بلائیں تو مسلمانوں کی طرف سے انھیں کوئی ریسپانس ملنے والا نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ ۶ دسمبر کے حادثہ کا ایک روشن پہلو ہے۔ ۶ دسمبر کو جب بابری مسجد کی عمارت ڈھائی گئی تو اسی کے ساتھ موجودہ نام نہاد مسلم قیادت بھی ہمیشہ کے لئے ڈھہ گئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader