Urdu book · اسفارِ ہند

مدراس کا سفر

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

شام کو نمازِ عشاء کے بعد ڈاکٹر عبد الرزاق شیخ کی رہائش گاہ پر ایک اجتماع ہوا۔ اس میں شہر کے تعلیم یافتہ افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر میں نے اجودھیا کے مسئلہ پر تقریر کی اور تین نکاتی فارمولا کی تشریح کی۔ آخر میں سوال و جواب پر مجلس برخاست ہوئی۔ بمبئی کے ٹائمز آف انڈیا یا کاپو نہ کے لئے ایک ضمیمہ نکلتا ہے۔ اس کا نام پونے پلس (Pune Plus) ہے۔ ڈاکٹر شیخ کا ایک مراسلہ اس کے کل کے شمارہ میں شائغ ہوا ہے۔ اس میں انھوں نے تین نکاتی فارمولا کی مکمل حمایت کی ہے۔ ۱۹ فروری ۱۹۹۳ صبح ساڑھے نو بجے پونے کے اردو ٹاورس کے ہال میں وسیع پیمانہ پر ایک کا نفرنس ہوئی۔ حاضرین میں پونہ کے ہر طبقہ کے ممتاز افراد شریک ہوئے۔ میرے علاوہ، اچاریہ سوشیل کمار اور سوامی چندانند کی تقریریں ہوئیں۔ تقریر کے بعد سوال و جواب ہوا۔ پریس کے لوگ بڑی تعداد میں موجود تھے۔ چنانچہ اگلے دن انگریزی، مراٹھی، ہندی، کے تمام اخباروں میں مفصل رپورٹیں شائع ہوئیں۔ شام کو ۵ بجے سندھیوں کے بڑے گرو دادا واسوانی سے ان کے آشرم پر ملاقات ہوئی۔ وہ تواضع اور شرافت اور انکسار کی سرا پا تصویر تھے۔ انھوں نے مسجد کو گر اکم وہاں مندر بنانے پر بہت دکھ کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا : They are killing the spirit of India. انھوں نے کہا کہ اگر اجودھیا میں رام مندر بنتا ہے تو اس کے ساتھ وہیں ایک مسجد بھی بننا چاہئے۔ اور اگر ایسا ہو تو میں خود وہاں جا کر اذان دوں گا اور وہاں نماز پڑھوں گا۔ مغرب کی نماز پونہ میں پڑھ کر بمبئی کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ سفر ذریعہ روڈ طے ہوا ۔ اچاریہ سوشیل کمار اور سوامی چندانند بھی ساتھ تھے۔ راستہ میں ایک چھوٹے بازار میں کچھ کام کے لئے رکے۔ دکاندار نے دیکھتے ہی پہچان لیا۔ اس نے کہا کہ ابھی ہم نے آپ لوگوں کو ٹی وی پر دیکھا ہے۔ ٹی وی کسی شخصیت کی توسیع ہے۔ وہ اس عقیدہ کو قابل فہم بناتا ہے کہ خدا ہر جگہ موجود ہے۔ رات کو ساڑھے دس بجے ہم لوگ بمبئی پہنچے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page