Urdu book · اسفارِ ہند

مدراس کا سفر

Urdu book, p. 163

By Maulana Wahiduddin Khan

فجر کی نماز ببیٹی میں جو ہوا اسکیم میں پڑھی۔ صبح کا کچھ وقت یہاں گزرا۔ اس کے بعد ہمیں میکڈ ٹاورس پہنچنا تھا۔ ہمارا تفاطلہ تین کاروں میں روانہ ہوا۔ میں مسٹر افضل الانہ کے ساتھ بیٹھ گیا۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے لئے نئے تھے۔ وہ الکٹرانک سنٹر چلاتے ہیں۔ حال ہی میں انھوں نے نئی ماروتی کار خریدی ہے۔ اس پر وہ مجھ کو لے کر روانہ ہوئے۔ لمبے راستہ میں ایک گھنٹہ تک زیادہ تر وہی بولتے رہے۔ ان کی گفتگو تمام کی تمام اس پر تھی کہ آج مسلم نوجوانوں میں زبردست فرسٹریشن ہے۔ یہ فرسٹریشن لڑائی جھگڑے کی صورت میں ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ انھوں نے موجودہ حالات کی ذمہ داری سب سے زیادہ ملکی تعصب پر ڈالی۔ ان کے ذاتی حالات معلوم کرتے ہوئے مجھے یہ پتہ چلا کہ وہ بمبئی آئے تو انھوں نے ڈیڑھ سو روپیہ مہینہ کی "پگار" پر کام کرنا شروع کیا۔ عام رواج کے خلاف، انھوں نے کبھی سیٹھ سے تنخواہ اور الاؤنس بڑھانے کی بات نہیں کی۔ وہ بس اپنے کام میں محنت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کو کافی تجربہ ہو گیا۔ اب وہ الکٹرانکس میں اپنا ذاتی کاروبار کرتے ہیں اور بمبئی میں کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ آخر میں میں نے کہا کہ آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ کی عملی زندگی الگ ہے، اور آپ کی سوچ الگ۔ آپ نے اپنی زندگی کے لئے جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ بلا شبہ کامیابی کا طریقہ تھا۔ مگر یہ طریقہ آپ کی سوچ میں شامل نہ ہو سکا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اپنی زبان سے یہ اعلان کر رہے ہیں کہ انڈیا میں مسلم نوجوانوں کے لئے کامیابی کی کوئی صورت نہیں۔ حالاں کہ عین اسی وقت آپ اسی انڈیا میں مکمل کامیابی حاصل کئے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ ہی جیسا معاملہ آجکل اکثر مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔ یہاں لاکھوں لوگ ہیں۔ جنھوں نے اپنی ذات کی سطح پر محنت کر کے کامیاب زندگی حاصل کی ہے۔ مگر جب وہ بولتے ہیں تو وہ اپنی زندگی کا تجربہ بیان نہیں کرتے۔ بلکہ سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر شکایت اور مایوسی کی زبان بولنے لگتے ہیں۔ آپ جیسے لوگ اگر صرف یہ کریں کہ وہ خود اپنا تجربہ لوگوں سامنے بیان کریں تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page