مدراس کا سفر
Urdu book, p. 164
By Maulana Wahiduddin Khan
ملت کا آدھا مسئلہ حل ہو جائے ۔ ۳۰۰ ق م میں بیٹی صرف مچھیروں کی ایک معمولی بستی تھی۔ تیسری صدی قبل مسیح میں یہ علاقہ اشوک کی سلطنت کا حصہ بنا۔ اس کے بعد وہ مختلف راجاؤں کے ماتحت رہا۔ ۱۴۹۳ء میں وہ خلجی خاندان کے قبضہ میں آیا۔ ۱۵۰۷ء میں یہاں سمندر کے راستہ سے پرتگالی داخل ہوئے۔ ۱۶۶۱ء میں جزیرہ بمبئی انگریزوں کے قبضہ میں آیا۔ ایک عرصہ تک وہ برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے زیر انتظام رہا۔ ۱۸۵۰ء میں پہلی سوتی مل یہاں قائم ہوئی۔ بمبئی میں میں ”جو ہو اسکیم" کے علاقہ میں ٹھیرا تھا۔ یہاں ہندوؤں کا اوپر کا طبقہ اور کچھ اعلیٰ طبقہ کے مسلمان رہتے ہیں۔ مختصر قیام کے دوران یہاں اس طبقہ کے لائف اسٹائل کو دیکھنے اور جاننے کا موقع ملا۔ اس اختلاط کے دوران یہ بات سمجھ میں آئی کہ ہندو۔ مسلم امور کو اگر محدود دائرہ میں رکھا جائے ، ان کو قومی پرستیج کی حد تک نہ پہنچنے دیا جائے تو ہندوؤں کا اوپر کا طبقہ ان معاملات میں غیر جانب دار رہے گا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہندوؤں کے اوپر کے طبقہ کا وزن اس قسم کی تحریکوں کو نہ ملے تو اس کی واحد یقینی تدبیر یہ ہے کہ ان کو قومی پرستیج کی حد تک جانے سے روکا جائے۔ مثلاً اجودھیا کے مسئلہ کو اگر اجودھیا تک محدود رکھا جاتا، شاہ بانو بیگم کے معاملہ میں ملکی اندولن نہ چلایا جاتا تو فرقہ پرست یا تشدد پسند عناصر کو اوپر کے طبقہ کے ہندوؤں کا تعاون ہرگز نہ ملتا۔ بمبئی میں مسٹر ایس آر سنگھوی (750625 ,750866 .Tel) سے ملاقات ہوئی۔ وہ کلکتہ میں رہتے ہیں اور ایکسپورٹ کا بزنس کرتے ہیں۔ انھوں نے اصرار کے ساتھ کہا کہ آپ کلکتہ کا پروگرام بنائیے ۔ ہم اس میں پورا تعاون دیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی تعلیم بنارس میں ہوئی۔ یہاں کالج میں مسلم لڑکے بھی تھے۔ ان کے ساتھ ہمارے بہت اچھے تعلقات تھے۔ ایک دوسرے کے گھر میں آنا جانا تھا۔ کوئی بھید بھاؤ نہیں تھا۔ ہم لوگ ایک دوسرے سے بھائی کی طرح ملتے تھے۔ ہم میں سے کوئی بھی ہندو مسلم ذہن کے ساتھ نہیں سوچتا تھا۔ مگر ۵۰ - ۷ سال میں بہت زیادہ فرق آگیا۔ ایک دوسرے کے درمیان بہت دوری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader