مدراس کا سفر
Urdu book, p. 165
By Maulana Wahiduddin Khan
آگئی۔ یہ اس وقت ہوا جبہ ایک طرف بابری مسجد تحریک اُٹھی، اور دوسری طرف رام مندر تحریک شروع ہوئی ۔ ان تحریکوں نے سارے ماحول میں زہر گھول دیا۔ گویا کہ موجودہ فرقہ وارانہ منافرت نہ مسلم دور حکومت کی دین ہے اور نہ ملک کے بٹوارہ کا نتیجہ۔ وہ قریب کی بعض تحریکوں کا نتیجہ ہے جو نہایت غیر دانش مندانہ انداز میں چلائی گئیں۔ کچھ فرقہ پرست ہندو اگر ماضنی کی بعض باتوں کو آج دہرا رہے ہیں تو اس کی حیثیت حقیقتِ نکتے بعد الوقوع کی ہے۔ ظہر کی نماز کے بعد مسٹر خوراکی والا شریف بمبئی) نے پنچ پر شہر کے کچھ خاص لوگوں کو بلایا تھا۔ یہاں موجودہ حالات پر لوگوں سے گفت گو ہوئی۔ مسٹر خوراکی والا نے گفت گو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ملک جدھر جا رہا ہے اس پر سب کو دکھ ہے۔ اب ہمیں سوچنا ہے کہ ان حالات میں کیا کرنا چاہئے ۔ عمومی تاثر یہ تھا کہ ذاتی مفاد اور پارٹی پالیکس سے اوپر اٹھ کر دیش کے مفاد کو سپریم بنانے کی ضرورت ہے۔ ورنہ قومی مستقبل کی تعمیر ممکن نہیں۔ آج دن میں شہر کی کئی ممتاز شخصیتوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان میں ہندو اور سلمان دونوں تھے ۔ ہر ایک نے " تین نکاتی فارمولا" سے غیر معمولی دلچسپی کا اظہار کیا اور اس کو ملک میں امن کے قیام کا ذریعہ بتایا۔ شام کو ۵ بجے جم خانہ کلب کے ہال میں عمومی اجتماع ہوا۔ تمام سیٹیں پوری طرح بھری ہوئی تھیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد، ہندو اور مسلم دونوں بڑی تعداد میں اکٹھا ہوئے۔ مقررین میں میرے علاوہ اچاریہ سوشیل کمار، سوامی چندانند، نانی پالکھی والا، کار دینال سائمن پیمیٹا، لو مالوپ زنگ اور ایف ٹی خوراکی والا تھے۔ مسٹر سعید نقوی نے اپنی تقریر میں بتایا کہ میں فیض آباد کا رہنے والا ہوں جو جو دھییا کے پڑوس میں ہے۔ مگر ۱۹۸۶ کے ایجی ٹیشن سے پہلے تک میرے والدین کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ بابری مسجد کہاں ہے۔ یہ صرف تحریکوں کی دھوم تھی جس نے لوگوں کو اس سے باخبر کیا۔ پالکھی والا نے اپنی تقریر میں کہا انڈیا میں اس وقت آپس کے جو جھگڑے ہیں وہ شرمناک حد تک بے معنی ہیں۔ ہم کو اگر ترقی کرنا ہے تو ہمیں ان آپسی جھگڑوں کو ختم کرنا ہوگا۔ انھوں نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader