مدراس کا سفر
Urdu book, p. 166
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنی تقریر ان الفاظ پر ختم کی: یا تو بھائیوں کی طرح زندگی گزاریے یا جانوروں کی طرح مر جائیے : Live as brother or die as animals. میں نے اپنی تقریر میں تین نکاتی فارمولے کی تشریح کی۔ آخر میں اچاڑ یہ سوشلش کمار مانک پر آئے۔ انھوں نے کہا کہ آپ لوگوں میں سے جن لوگوں کو فارمولے سے اتفاق ہے وہ ہاتھ اٹھائیں۔ اچانک کچھ مسلمان اٹھ کر شور کرنے لگے۔ ان کے شور میں کوئی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ صرف یہ سنائی دیا کہ : ہم مولانا کے فارمولے کو نہیں مانتے۔ اس کے بعد سوامی چیندانند اسٹیج پر آئے۔ انھوں نے بڑے جذباتی انداز میں میری حمایت کی۔ اس سے لوگ ٹھنڈے ہوئے۔ اس کے بعد نانی پالکی والا آئے۔ انھوں نے شاندار انگریزی تقریر میں میری زبردست حمایت کی۔ ان کی تقریر نہایت علمی اور نہایت موثر تھی۔ اس کے بعد مجمع بالکل خاموش ہو گیا۔ ۲۰ فروری ۱۹۹۳ کو بمبئی کے مذکورہ جلسہ میں جس مسلمان بزرگ نے سب سے زیادہ ہنگامہ برپا کیا، وہ مولا نا ضیاء الدین بخاری تھے۔ موصوف ابتداڈ ایک" معمولی اور گم نام ٹینچر تھے۔ اس کے بعد وہ بمبئی کی مسلم سیاست کے میدان میں آئے۔ اپنی جوشیلی تقریروں کے ذریعہ انھوں نے مقامی مسلم حلقوں میں کافی شہرت حاصل کی۔ وہ " بیباک مسلم لیڈر کے روپ میں ابھرے۔ اور ایک صحافی کے الفاظ میں، بمبئی کے مسلمانوں کی مزاحمتی سیاست کی علامت بن گئے (ہندوستان، بمبئی، ۲۱ - ۲۲ اپریل ۱۹۹۳) ۲۰ فروری کے جلسہ میں انھوں نے اتنا شور بر پا کیا کہ کوئی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ مگر عجیب بات ہے کہ دو ماہ بعد ۲۱ اپریل ۱۹۹۳ کو یہ آواز ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئی۔ بمبئی کے علاقہ بائی کلہ کی فائن پٹیلس بلڈنگ میں واقع ان کے دفتر میں چار مسلح لوگ داخل ہوئے اور ریوالور سے مسلسل فائر کر کے ان کو ہلاک کر دیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ بمبئی کے سفر پر روانگی سے پہلے بمبئی سے کئی ٹیلیفون آئے تھے کہ آپ بمبئی نہ آئیں یہاں کچھ افراد آپ سے بہت ناراض ہیں۔ وہ آپ کے خلاف کچھ بھی حرکت کر سکتے ہیں۔ تاہم میں اللہ کے بھروسے پر بمبئی گیا۔ جس وقت ہال میں کچھ مسلمان ہنگامہ کر رہے تھے اور میں اسٹیج پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader