مدراس کا سفر
Urdu book, p. 167
By Maulana Wahiduddin Khan
خاموش بیٹھا ہوا تھا ، ہر وقت یہ اندیشہ تھا کہ کسی بھی طرف سے گولی آسکتی ہے اور وہیں میرا خاتمہ کر سکتی ہے ۔ مگر اللہ کا شکر ہے کہ میرے دل میں اس وقت ذرا بھی گھبراہٹ نہیں تھی ۔ جلسہ ختم ہوتے ہی اسٹیج کا پردہ اس کے ذمہ داروں نے کھینچ دیا ۔ اس کے بعد دو پولیس افسر میرے دائیں اور بائیں آگئے ۔ وہ باہر گاڑی میں سوار ہونے تک مسلسل میرے ساتھ رہے ۔ ۲۰ فروری کی شام کو میں مسٹر افضل الانہ کی گاڑی میں ایئر پورٹ جانے کے لئے بیٹھا ۔ عین اسی وقت دو ہندو نوجوان گاڑی میں داخل ہوئے اور میرے دائیں اور بائیں بیٹھ گئے ۔ یہ دونوں میرے لئے نئے تھے ۔ انھوں نے بتایا کہ ہم آپ کی حفاظت کے لئے یہاں بیٹھے ہیں ۔ ایک نوجوان نے کہا : مولا نا جی ، یری کوئی آپ پر گولی چلاتا ہے تو وہ گولی پہلے ہمارے سینہ کو چھیدے گی ۔ اس کے بعد ہی وہ آپ تک پہنچ سکتی ہے ۔ یہ لوگ ایئر پورٹ کے دروازہ تک میرے ساتھ رہے ۔ شام کو فلائٹ نمبر ۱۸۳ کے ذریعہ بمبئی سے دہلی کے لئے روانگی ہوئی ۔ کسی قدر لیٹ ہو کر جہاز نے 9 بجے بمبئی سے پرواز شروع کی ۔ راستہ میں چند اخبار ہندی اور انگریزی کے دیکھے ۔ ہندی اخبار سندھیہ ٹائمس (۲۰ فروری ۱۹۹۳) میں ایک تفریحی کالم ہوتا ہے ۔ اس کا عنوان ہے : اٹ پٹے سوال ، چھٹ پٹے جواب ۔ اس کے دو سوال و جواب اس طرح تھے : سوال : جب دنیا کے سارے راستے بند ہو جاتے ہیں تو اس وقت راستہ کون دکھاتا ہے ۔ جواب : ہمت ۔ سوال : یہ تو سبھی کو معلوم ہے کہ محنت کا پھل میٹھا ہوتا ہے ۔ مگر ایک نہاشتے کو شکایت ہے کہ لگا تار پانچ ورشوں کی کر مامی محنت کے بعد بھی پھل کڑواہی ملا ۔ یہ کیا ماجرا ہے ۔ جواب : پانچ سال میں محنت سے کریلے ہی ہوئے ہوں گے ۔ ۲۰ فروری ۱۹۹۳ کی رات کو میں دہلی واپس پہنچا ۔ تاخیر کا سبب یہ تھا کہ جہاز غیر معمولی طور پر کئی گھنٹہ لیٹ ہو گیا ۔ مگر مجھے ذاتی طور پر اس کا نقصان نہیں ہوا ۔ کیوں کہ مجھے اس کی اطلاع بمبئی میں پیشگی طور پر مل گئی تھی اور میں نے اس وقت کو بمبئی میں استعمال کر لیا تھا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader