Urdu book · اسفارِ ہند

سیوگرام کا سفر

Urdu book, p. 168

By Maulana Wahiduddin Khan

سیوگرام کا سفر وسط مارچ ۱۹۹۳ میں سیوگرام میں ایک سیمینار تھا۔ یہ سیمینار گاندھی ، و نو با بھاوے اور جے پرکاش نرائن کے ماننے والوں نے سرو دیہ سماج کے زیر اہتمام کیا تھا۔ منتظمین کی دعوت پر میں نے بھی اس میں شرکت کی۔ ۱۵ مارچ ۱۹۹۳ کی دوپہر کو گھر سے دہلی ایئر پورٹ کے لئے روانگی ہوئی۔ میرے ساتھ ہندی اخبار جن ستل کے بیورو چیف مسٹر رام بہادر رائے بھی تھے۔ ایئر پورٹ پر پہنچے تو انتظار گاہ میں بہت سے مسافر بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ جگہ جگہ رنگین ٹیلی ویژن رکھے ہوئے تھے جن پر تفریح فلمیں دکھائی جا رہی تھیں۔ یہ اس لئے تھا تاکہ مسافر اکتماہٹ محسوس نہ کریں۔ میں نے کہا کہ جدید تمدن قدم قدم پر غیر فطری دلچسپیاں بکھیرے ہوئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آدمی فطرت کی لائن پر سوچ نہیں پاتا۔ قرآن میں سفر (سیاحت) کو ذریعہ عبرت بتایا گیا ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں ہر طرف مصنوعی رونقیں اتنی زیادہ پھیلادی گئی ہیں کہ انسان سفر کے دوران بھی انھیں میں کھویا ہوا رہتا ہے۔ حتی کہ جہاز کے اندر بھی کان پر آلہ سماعت لگا کر موسیقی کی دھنیں سنتا رہتا ہے۔ انسان کی زندگی میں کبھی وہ لمحہ نہیں آتا جب کہ وہ فطرت سے قریب ہو۔ وہ آلاء الہی سے آشنا نہیں ہو پاتا۔ وہ آلاء انسانی کے درمیان جیتا ہے، اور انھیں کے درمیان مر جاتا ہے۔ میں ایئر پورٹ کی انتظار گاہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اناؤنسر کی آواز کان میں آئی __ ”یہ سوچنا انتم بار دی جارہی ہے۔ ایئر پورٹ کا اناؤنسر کہہ رہا تھا کہ گو آجانے والے یا تری فوراً گیٹ نمبر ۱ پر پہنچیں کیوں کہ فلائٹ اب روانگی کے لئے بالکل تیار ہے۔ اچانک خیال آیا کہ آخری پیغمبر کا ظہور بھی اسی نوعیت کا ایک واقعہ ہے۔ وہ انسانیت کے لئے آخری انتباہ تھا۔ شاید اسی لئے آپ نے فرمایا کہ میں اور قیامت اتنے ہی قریب ہیں جیسے کہ میرے ہاتھ کی یہ دو انگلیاں (بُعِثْتُ أنا والساعة کهاتين) مشکوة المصابیح ۴۲۲/۱ مگر بھری ہوئی دنیا میں ایسے لوگ کہیں نظر نہیں آتے جو اس انتم سوچنا کو سنیں اور اس کی طرف دوڑ پڑیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page