Urdu book · اسفارِ ہند

سیوگرام کا سفر

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

ظہر کی نماز ایر پورٹ پر پڑھی۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو نے اس کو دیکھ کر کہا کہ اسلام میں تو یہ ہے کہ پوری زمین مسجد ہے۔ جہاں چاہے اپنی عبادت کر لو۔ ایسی حالت میں مسلمانوں نے بابری مسجد کے لئے اتنا زیادہ شور کیوں کیا۔ دونوں باتوں میں مجھے یکسانیت دکھائی نہیں پڑتی۔ میں نے کہا کہ کچھ خود ساختہ لیڈروں نے بابری مسجد کے نام پر جو آل انڈیا ایجی ٹیشن چلایا، اس ایجی ٹیشن سے تو میں اتفاق نہیں کرتا، مگر جہاں تک خود بابری مسجد کا مسئلہ ہے، اس پر اس کے فطری دائرہ میں پر امن تحریک چلانا بلاشبہ درست تھا، کیوں کہ ایک ثابت شدہ مسجد کو بزور مندر میں کنورٹ کرنا انصاف اور قانون کے سراسر خلاف ہے۔ میں نے کہا کہ آپ جس مکان میں رہتے ہیں وہ کوئی مقدس جگہ نہیں، آپ اس کے سواکسی دوسرے مکان میں بھی رہ سکتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص آپ کے مکان پر نہ بر دستی قبضہ کر لے تو آپ ضرور اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔ اس لئے نہیں کہ آپ کسی دوسری جگہ نہیں رہ سکتے۔ بلکہ اس لئے کہ آپ کے ایک ثابت شدہ مکان پر زبر دستی قبضہ کرنا قانون اور انصاف کے خلاف ہے ۔ بابری مسجد کی تحریک دراصل غیر قانونی قبضہ کے خلاف تھی، وہ اس معنی میں نہ تھی کہ اس ڈھانچہ کے باہر عبادت نہیں کی جاسکتی۔ ایر پورٹ پر نماز پڑھنے کے بعد جب دوبارہ اپنی کرسی پر آکر بیٹھا تو ایر پورٹ کا ایک ملازم آیا۔ اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر مجھے نمسکار کیا۔ پھر چرن اپر ش کر کے بولا کہ مجھے ایک ہفتہ سے بخار ہے۔ مجھ کو پھونک مار دو۔ میں نے کچھ دعائیہ کلمات پڑھ کر اسے پھونک دیا۔ اور کہا کہ خدا نے چاہا تو تم اچھے ہو جاؤ گے۔ اس طرح کی پھونک کے بعد اگر کوئی مریض اچھا ہو جائے تو عام لوگ اس کو بزرگ کی کرامت سمجھتے ہیں حالانکہ وہ بدلے ہوئے اسلوب میں خود ایک دعا ہے۔ اس کے بعد اگر مریض اچھا ہو جائے تو وہ دعا سے اچھا ہوا نہ کہ بزرگ کی کرامت سے۔ انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۲۴ م کے ذریعہ ۱۵ مارچ کو دہلی سے ناگپور کے لئے روانگی ہوئی۔ دن کے ۲ بجے کا وقت تھا۔ جہاز فضا میں بلند ہو کر تیزی سے اڑ رہا تھا۔ میں نے کھڑکی سے باہر کی طرف دیکھا تو جہاز کے نیچے بادل کے ٹکڑے تیر رہے تھے۔ جہاز ان کے اوپر سے آگے کی طرف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page