Urdu book · اسفارِ ہند

سیوگرام کا سفر

Urdu book, p. 170

By Maulana Wahiduddin Khan

جاتا ہو نظر آرہا تھا، اور بادل کے ٹکڑے پیچھے کی طرف ہٹتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ یہ صرف نظر کا معاملہ تھا۔ ہوائی جہاز کی رفتار تیز تھی اور بادل کی رفتار اس کے مقابلہ میں سست، اس لئے دیکھنے میں بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جہاز آگے کی طرف جا رہا ہے اور بادل پیچھے کی طرف۔ اس دنیا میں اسی طرح انسان کا ہر مشاہدہ اضافی ہے۔ آدمی اگر اس راز کو نہ جانے تو وہ کسی بھی حقیقت کو سمجھ نہیں سکتا۔ راستہ میں انڈین ایئر لائنز کا فلائٹ میگزین سوانت (مارچ 1993) دیکھا۔ اس کا ایک مضمون ہوائی جہاز اور چڑیوں کے بارے میں تھا۔ اس کا عنوان تھا ۔ پنکھه دار خطرے : Winged Hazards اس میں بتایا گیا تھا کہ چڑیوں کے جھنڈ جو اکثر آسمانوں میں اڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، وہ ہوائی جہاز کے لئے بہت بڑا امکانی خطرہ (potential danger) ہیں۔ اگر وہ فضا میں کسی ہوائی جہاز سے ٹکرا جائیں تو وہ ہوائی جہاز کو سخت نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس کا اصول یہ ہے کہ جہاز کی رفتار جتنی زیادہ تیز ہوگی اتنا ہی زیادہ چڑیوں کا ٹکراؤ اس کو نقصان پہنچائے گا۔ ایک گدھ اگر ایک ایسے جہاز سے ٹکرائے جو فضا میں ۲۸۰ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ رہا ہو تو اس کا امپیکٹ ۴ ٹن کے برابر ہو گا۔ لیکن اگر جہاز کی رفتار ایک ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ ہو تو اس وقت ٹکراؤ کا امپیکٹ ۵۰ ٹن ہو جائے گا جو کسی ہوائی حادثہ (air crash) کے لئے کافی ہے۔ فوجی جہازوں کو خاص طور پر چڑیوں کا خطرہ ہوتا ہے، کیوں کہ وہ بہت تیز رفتار کے ساتھ اڑتے ہیں۔ ۱۹۹۰ء میں انڈین ایئر لائنز کے جہازوں کے ساتھ چڑیوں کے ٹکراؤ کے ۱۱۸ اکیس ہوئے اور اس کے نتیجہ میں متاثرہ جہازوں کی مرمت پر ۳۷۲ لاکھ روپئے خرچ کرنا پڑا۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جب ٹکراؤ واقع ہوتا ہے تو اس وقت جہاز کی رفتار کی اہمیت چڑیوں کے وزن سے زیادہ ہوتی ہے: When collision occurs, the speed of the aircraft is more important than the weight of the bird. (p.65) یہی اصول انسانی زندگی کا بھی ہے۔ زندگی کی دوڑ میں اگر فریق ثانی کے ساتھ آپ کا ٹکراؤ ہو جائے تو آپ کو اس کا جو نقصان پہنچے گا وہ آپ کی اپنی رفتار کے تناسب سے ہوگا نہ کہ فریق ثانی کے حجم یا تعداد کے تناسب سے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page