Urdu book · اسفارِ ہند

سیوگرام کا سفر

Urdu book, p. 171

By Maulana Wahiduddin Khan

ناگپور ایئر پورٹ پر جہاز کسی قدر تاخیر کے ساتھ پہنچا۔ لینڈنگ بھی برف تھی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے جہاز کو دھر سے زمین پر گرا دیا گیا ہو۔ ایئر پورٹ پر سیوا گرام کانفرنس کے منتظمین موجود تھے جو مجھ کو براہِ راست سیوا گرام لے جانا چاہتے تھے۔ مگر ایئر پورٹ پر ناگپور کے احباب جناب محمد حنیف صاحب، جسٹس قاضی صاحب، عبد السلام اکبانی صاحب آگئے تھے۔ ان کی تجویز تھی کہ آج میں ان کے ساتھ ناگپور میں قیام کروں اور کل صبح یہاں سے سیوا گرام جاؤں۔ ناگپور سے سیوا گرام کا سفر بذریعہ روڈ ایک گھنٹہ کا ہے۔ ایئر پورٹ سے روانہ ہو کر ہم لوگ ہوٹل سنٹر پوائنٹ (centre point) پہنچے۔ یہاں میرے کمرہ نمبر ۵۰۲ میں ٹھہرنے کا انتظام تھا۔ شام کو دیر تک نشست رہی۔ محمد حنیف صاحب، جسٹس قاضی صاحب، عبد السلام اکبانی صاحب کے ساتھ قرآن و حدیث کے موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ عشاء کی نماز کے بعد وہ لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے اور میں کچھ دیر لکھنے پڑھنے کے بعد بستر پر لیٹ گیا۔ ہوٹل کے مالک ایک سردار جی ہیں۔ اور اس کے منیجر ایک مسلمان ہیں۔ یہ روزہ کا دن تھا۔ صبح کو ۴؍۳ بجے ہوٹل کے آدمی نے گھنٹی بجائی اور روزہ کی سحری لا کر کمرہ میں رکھ دی ۔ شیخ سعدی شیرازی نے کہا تھا: منعم بہ کوہ و دشت و بیاباں غریب نیست ہر جا که رفت خیمه زد و بارگاه ساخت مگر اب ہر جگہ ہوٹلوں کے قیام کے بعد اس سہولت کا تعلق صرف "منعم" سے نہیں رہا۔ بلکہ وہ ہر ایک کی دسترس تک گیا ہے۔ ایک مسئلہ پر گفت گو کے دوران میں نے کہا کہ ہندو کو کافر کہنا سراسر غیر اسلامی ہے۔ کافر کے معنی عربی زبان میں منکر کے ہوتے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح میں منکر وہ ہے جس کا انکار ناصحانہ دعوت اور مبالغہ برانہ تبلیغ کے ذریعہ آخری طور پر ثابت شدہ بن جائے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی رسول نے کبھی "اے کا فرو" کہہ کر اپنے زمانہ کے لوگوں کو خطاب نہیں کیا۔ ان کے خطاب کے الفاظ ہمیشہ یہ ہوتے تھے ___ اے میری قوم کے لوگو، اے انسانوں، اے اللہ کے بندو، وغیرہ۔ موجودہ حالت میں ہندوؤں کو کافر کہنا یا ان کے خلاف ہلاکت کی دعا کرنا مجرمانہ حد تک غلط

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page