Urdu book · اسفارِ ہند

سیوگرام کا سفر

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ یہ اپنی ذمہ داری ادا کئے بغیر دوسرے کو مجرم ٹھہرانا ہے۔ اسی طرح میں نے کہا کہ انڈیا میں ہندوؤں اور مسلمانوں کا مذہب بلا شبہ الگ الگ ہے۔ مگر دونوں ایک قوم کے افراد ہیں۔ اس معاملہ میں مولانا حسین احمد مدنی نے بالکل درست فرمایا تھا کہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں، قوم مذہب سے نہیں بنتی۔ ایک اور گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ سب نکاتی فارمولا اصلاً اجودھیا کے مسئلہ کے حل کے لئے پیش کیا گیا تھا۔ تاہم اس کوشش کے دوران وہ ایک خیر کا ذریعہ بن گیا۔ اور وہ ہے ہندوؤں کے اعلیٰ طبقہ میں پہنچنا۔ اس فارمولے کی اشاعت کے بعد پہلی بار یہ موقع ملا کہ میں ہندوؤں کے دانشور طبقہ میں اور ان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ میں پہنچ سکوں۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد میں جتنا زیادہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اوپر کے طبقہ کے ہندوؤں میں پہنچ سکا ہوں اتنا موقع مجھے اپنی پوری عمر میں نہیں ملتا تھا اور نہ میری معلومات کے مطابق کسی اور مسلم رہنما یا عالم کو۔ یہ سفر اصلاح سرو سیوانگھ کے سمینار میں شرکت کے لئے ہوا جو سیو اگرام میں ہو رہا تھا۔ جب پروگرام ۱۲ مارچ کی صبح ناگپور سے سیوا گرام کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ سفر بذریعہ روڈ طے ہوا میرے ساتھ جن ستا کے ایڈیٹر مسٹر پر بھاش جوشی اور مسٹر رام بہادر رائے تھے۔ میں ہوٹل کے کمرہ سے نکلا تو حسب معمول میرے ہاتھ میں صرف ایک بریف کیس تھا، جبکہ سیو اگرام میں مجھے تین دن گزارنا تھا۔ مسٹر پر بھاش جوشی نے اس کو دیکھ کر کہا: کیا یہ آپ کے تین دن کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔ سیو اگرام میں ہم لوگ گیارہ بجے پہنچے۔ وہاں سمینار کی کارروائی شروع ہو چکی تھی۔ اس سمینار میں زیادہ تر گاندھی واد سے تعلق رکھنے والے لوگ شریک تھے۔ اس کا موضوع بحث یہ تھا: موجودہ حالات میں دیش کے سدھار کے لئے ہمیں کیا کرنا ہے۔ سمینار کا ماحول مکمل طور پر گاندھیائی تھا۔ ایک سادہ سے بڑے کمرہ میں لوگ معمولی فرش پر بیٹھے ہوئے تھے۔ کوئی منچ نہیں تھا کسی کے لئے کوئی اہتمام نہیں تھا۔ دیوار سے ملا ہوا ایک اونچا پتھردہ اسٹیج تھا جس پر بیٹھ کر مقرر بولتا تھا۔ لاؤڈ اسپیکر جیسی چیزیں بھی نہیں تھیں۔ کوئی جو شیل تقریر نہیں ہوئی۔ ہر آدمی سادہ، متواضع اور دھیمی آواز میں بول رہا تھا۔ چند نوجوان تھے اور زیادہ تر بوڑھے یا ادھیڑ عمر کے لوگ۔ اجتماع گاہ میں ایک نیا منظر یہ تھا کہ جس طرح تبلیغ والوں کے جلسہ میں بہت سے لوگ عین دوران

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page