سیوگرام کا سفر
Urdu book, p. 173
By Maulana Wahiduddin Khan
اجتماع تسبیح پڑھنے میں مشغول رہتے ہیں، یہاں بھی کچھ لوگ مخصوص قسم کا دستی کرگھا لئے ہوئے سوت کاتنے میں مشغول تھے۔ مہاتما گاندھی نے ۱۹۳۶ میں اپنا سا برمتی کا آشرم چھوڑ دیا۔ وسط ہند میں وہ دوسرا آشرم بنانا چاہتے تھے۔ اس وقت وار دھا ضلع میں مسٹر بمجاج نے ایک بہت بڑی زمین انہیں عظیم میں دے دی۔ یہیں پر گاندھی جی نے اپنا آشرم بنایا اور اس کا نام سیوا گرام رکھا۔ یہاں انہوں نے ایک ماڈل کمیونٹی بنائی جو ابھی تک وہاں پائی جاتی ہے۔ یہاں کے لوگ نہایت سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ گاندھی جی نے سیوا گرام کے باشندوں کو یہ نشانہ دیا کہ وہ یہاں ایک خود کفیل کمیونٹی بنائیں۔ وہ خود اپنا کھانا، کپڑا، مکان اور اسباب بنائیں جو سماجی زندگی کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ اسی طرح روحانیت، آرٹ، لٹریچر، ڈراما وغیرہ میں انہیں اپنا کام آپ بنانا چاہئے (82/IX) ۱۹۳۲ میں مہاتما گاندھی نے کانگریس پارٹی کو چھوڑ دیا تھا۔ ان کو یہ شکایت تھی کہ کانگریس لوگوں نے نان وائلنس کو محض پولینکل مصلحت کے لئے اختیار کیا ہے نہ کہ واقعی عقیدہ کے طور پر جیسا کہ وہ خود اس کو سمجھتے ہیں۔ گاندھی جی نے وقتی طور پر اپنی پولینکل سرگرمی ختم کر دی۔ انہوں نے اپنی توجہ تعمیری پرو گرام میں لگا دی، تاکہ قوم کو اس کی ابتدائی سطح سے تیار کر سکیں ، اس کے لئے انھوں نے نئی تعلیمی سنگھ کی تحریک شروع کی جو اب تک چل رہی ہے (7/877) سیوا گرام میں افراد تیار کرنے کے لئے گاندھی جی کا جو نقشہ تھا وہ ظاہر کرتا ہے کہ بنیادی طور پر ان کے سامنے مارکسی ماڈل تھا۔ مارکس کا نظریہ تھا کہ سوشل حالات انسانی اخلاقیات کی تشکیل کرتے ہیں۔ سیوا گرام کا نقشہ بھی اسی کے مطابق تیار کیا گیا۔ البتہ یہ فرق تھا کہ مارکس نے اپنے نظام کو سیاسی انقلاب کے ساتھ جوڑا۔ اور گاندھی جی نے اس کو غیر سیاسی دائرہ میں حاصل کرنا چاہا۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ دونوں یکساں طور پر ناکام رہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی اخلاقیات کی تشکیل کرنے والی طاقت آدمی کی اپنی ذہنی سوچ ہے نہ کہ اس کے سماجی اور اقتصادی حالات ۔ آدمی جیسا سوچتا ہے ویسا بنتا ہے نہ کہ جیسا رہتا ہے ویسا بن جاتا ہے۔ سیوا گرام میں دیکھنے کی چیزیں بہت ہیں۔ خاص طور پر مٹی اور لکڑی سے بنا ہوا وہ چھوٹا سا مکان جس کو گاندھی جی کا ہٹ (جھونپڑا) کہا جاتا ہے۔ اس کے اندر مہاتما گاندھی کے بیٹھنے کی جگہ،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader