سیوگرام کا سفر
Urdu book, p. 174
By Maulana Wahiduddin Khan
ملاقات کی جگہ، سونے کی جگہ، کھانے کا برتن، وغیرہ ہیں۔ ہر چیز نہایت سادہ اور نہایت معمولی ہے۔ اس کو اس کی اصل صورت میں پوری طرح محفوظ رکھا گیا ہے۔ میکسیکو کا فلسفی آئیوان ایچ (Ivan Illich) جنوری ۱۹۷۸ میں سیوا گرام آیا تھا۔ یہاں ان کو ایک کانفرنس کا افتتاح کرنا تھا۔ وہ جتنے دن سیوا گرام میں رہے، انھوں نے اپنا زیادہ وقت گاندھی جی کے جھونپڑے (Bapu's hut) میں گزارے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جھونپڑا مجھ کو روحانیت اور سادگی کی علامت نظر آتا ہے۔ یہاں بیٹھ کر مجھ کو ایک سکون حاصل ہوتا ہے جو مجھ کو کہیں اور نہیں ملتا۔ انھوں نے اپنے لکچر میں کہا کہ ہم کو ایک طریقہ دریافت کرنا ہوگا جس کے ذریعہ ہم اس فکر کی بنیاد پر آج کی دنیا کی قدروں میں تبدیلی لاسکیں: We have to find a method by which this thinking finds expression in changing the values of today's world. مہاتما گاندھی کی سب سے زیادہ خاص صفت میرے نزدیک یہ تھی کہ وہ اپنے دشمنوں سے بھی نفرت نہیں کرتے تھے۔ وہ اپنے مخالفین کے سامنے اپنے نقطہ نظر کی وضاحت اس طرح کرتے تھے جیسے کہ وہ ان کا ہمدرد ہو۔ ایک گاندھیائی پروفیسر نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ گاندھی کے ستیہ گرہ کے فلسفہ میں دشمن بھی مستقل دشمن نہیں تھا بلکہ وہ ایک امکانی دوست تھا: The fact is that in Gandhi’s philosophy of Satyagraha, the enemy was not regarded as an eternal enemy, but a potential friend. سیمنار میں تقریباً پچاس آدمی تھے۔ وہ سب گاندھی، ونو با بھاوے اور جے پرکاش کے نظریات سے متاثر تھے۔ اپنے اپنے انداز میں لوگوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ۱۶ مارچ کو دوپہر بعد کی میٹنگ میں میں نے پون گھنٹہ تک ایک تقریر کی۔ میں نے کہا کہ گاندھی جی نے اہنسا کے ذریعہ آزادی حاصل کی۔ مگر آزادی کے بعد ملک ہنسا کے رخ پر چل پڑا۔ اس کا نقصان اتنا زیادہ ہے جو گنتی میں نہیں آتا۔ مثلاً بمبئی اس دیش میں صنعتی ترقی کی علامت تھا، آج بمبئی کو تباہ کیا جارہا ہے۔ پنجاب زر اعلیٰ ترقی کی علامت تھا، آج پنجاب تباہ ہورہا ہے۔ کشمیر اس ملک میں فطرت کے حسن کا نمونہ تھا، آج کشمیر تباہی کا منظر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader