Urdu book · اسفارِ ہند

سیوگرام کا سفر

Urdu book, p. 175

By Maulana Wahiduddin Khan

پیش کر رہا ہے۔ ان حالات میں مہاتما گاندھی کے خیالات کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ ضرورت ہے کہ آج اہنسا کے اصول کو از سر نو لوگوں کے ذہنوں میں بٹھایا جائے۔ ایک پرانے گاندھیائی نے کہا کہ گاندھی جی یہ کہتے تھے کہ ہم کو گرام سوراج لانا ہے۔ تم لوگ آدرش گرام بنانے کی چرچا کرو۔ یہی جے پی کے سمپورن کرانتی کا مطلب بھی تھا۔ اب ہم کو اسی کے لئے اٹھنا ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ پہلا سوال یہ ہے کہ ہمارا ایجنڈ اکیا ہو۔ میں کہوں گا کہ یہ ایجنڈا سوشل چینج ہے۔ سوشل چینج کے لئے ہمیں ایک نان پولینکل فورس کو جنریٹ کرنا ہے۔ آپ کو ڈیش میں نان پولینکل فورس کھڑا کرنا ہوگا۔ ایک اور صاحب نے کہا کہ آج کا ہندو کرائس آف آئیڈ نٹی کے مسئلے سے دوچار ہے۔ ہندو کون ہے، خود یہ سوال غور طلب بن گیا ہے۔ اس کے لئے ہمیں کڑی محنت کرنا ہوگا۔ ایک صاحب نے ”سب کی بھلائی کو آد رش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پوری انسانیت کو سامنے رکھ کر کام کرنا ہوگا: جب تک سب کا بھلا نہ ہوگا نہیں کریں گے ہم آرام ایک صاحب نے کہا کہ آجکل سیاسی لیڈروں کا نظریہ یہ ہو گیا ہے کہ ڈنگا کرادو، پولرائزیشن ہو جائے گا، ووٹ مل جائے گا۔ ایسی گندی سیاست کے ماحول میں ہم کو بہت سوچ سمجھ کر کام کرنا ہے۔ یہاں کھانے کا نظام بھی پوری طرح گاندھیائی تھا۔ ایک کھلا ہوا ہال ہے۔ اس کے اوپر خوبصورت چھپر پڑا ہوا ہے۔ چاروں طرف درخت کی ہر یال ہے۔ چڑیوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ اس کے اندر معمولی قسم کا ٹاٹ بچھا دیا گیا۔ سب لوگ آکر اس پر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد ہر ایک کے سامنے سادہ قسم کی تھالی رکھی گئی جس کے اندر دو کٹوریاں تھیں۔ کھلانے والے آتے ہیں اور ہر ایک کی تھالی میں روٹی، چاول، سالن، ڈال شروع کرتے ہیں۔ ہرایک صرف بقدر ضرورت لیتا ہے۔ کیوں کہ یہاں کھانا چھوڑنے کا رواج نہیں ہے۔ میٹھے کے لئے حلوایا مٹھائی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page