Urdu book · اسفارِ ہند

سیوگرام کا سفر

Urdu book, p. 176

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں۔ بلکہ سادہ قسم کا گڑدیا جارہا ہے۔ کھانا رکھے جانے کے بعد بھی کوئی شخص کھانا شروع نہیں کرتا۔ بلکہ انتظار کرتا ہے کہ تمام لوگوں کے سامنے کھانا رکھ دیا جائے۔ جب سب کی تھالی میں کھانا رکھا جا چکا ہوتا ہے تو ایک آدمی کھڑے ہو کر ہندی میں دعائیہ گیت گاتا ہے جس کو دوسرے لوگ دہراتے ہیں۔ اس کے بعد سب لوگ بیک وقت کھانا شروع کرتے ہیں۔ برتن دھونا ہر آدمی کی اپنی ذمہ داری ہے۔ ہر شخص کھانے سے فارغ ہو کر اٹھتا ہے تو اس کا برتن اس کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ وہ نل پر جا کر اسے دھوتا ہے اور پھر مخصوص جگہ اس کو لے جا کر رکھ دیتا ہے۔ شام کو بہت سے لوگ میرے کمرہ میں اکٹھا ہو گئے۔ مسلمانوں کے معاملات پر باتیں ہوتی رہیں۔ ایک ہندو نوجوان مسٹر کمار پر شانت بھی ان میں شامل تھے۔ وہ باصلاحیت اور تعلیم یافتہ ہیں۔ مگر بعض امور میں ان کو میں نے حد درجہ شدید پایا۔ مثلاً انھوں نے شاہ بانو بیگم کے معاملہ کا ذکر کیا۔ ان کے نزدیک شاہ بانو اس بات کی علامت تھی کہ مسلم مہلائیں موجودہ سماج میں ظلم کا شکار ہو رہی ہیں۔ اور ملا لوگ ریفارم کی راہ میں رکاوٹ بن گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ نکاح وطلاق کا مسئلہ مسلمانوں کا ایک اندرونی مسئلہ ہے۔ اس میں آپ کیوں دخل دینا چاہتے ہیں۔ بہتر ہے کہ ہم اور آپ ان چیزوں پر بات کریں جو سارے دیش کی ترقی سے تعلق رکھتی ہیں۔ انھوں نے کسی قدر ہوش کے ساتھ کہا: اب نئے بھارت میں یہ الگاؤ نہیں چلے گا۔ مسلم سماج یا تو خود طے کر کے اپنے آپ کو دیش کے مطابق بنالے، ورنہ اس کے اوپر بلڈوزر چلا کر اس کو یکساں بنا دیا جائے گا۔ اگلے دن ، 1 مارچ کو شدر کا نے جو باتیں کیں، ان میں سے کچھ کا خلاصہ یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔ ونے بھائی بنارس سے آئے تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ سردار پٹیل آر ایس ایس کو دیش کے لئے ایک خطرہ سمجھتے تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ آرایس ایس والے دیش کا نہ جانے کیا کر ڈالیں گے۔ آپ کے گھر میں کوئی ایسا نوجوان ہے تو اس کو سمجھائیے۔ اگر وہ نہ مانے تو اس کو گھر سے نکال دیجئے ۔ ونے بھائی نے رام لیلا گراؤنڈ کی میٹنگ میں سردار پٹیل کی زبان سے یہ بات سنی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page