Urdu book · اسفارِ ہند

سیوگرام کا سفر

Urdu book, p. 177

By Maulana Wahiduddin Khan

ونے بھائی نے بتایا کہ نوجوانی کی عمر میں میں خود آر ایس ایس میں شامل ہو گیا تھا۔ میں " راشٹریہ سیوک سنگھ " کے نام سے پر جاوٹ ہوا۔ مجھے " راشٹریہ " کے لفظ سے دھوکا ہوا کہ یہ لوگ راشٹر کا کام کر رہے ہیں۔ مگر اندر داخل ہو کر معلوم ہوا کہ اصل میں تو وہ ہند و سنگھ ہے اور نام راشٹر سنگھ رکھ لیا ہے۔ یہ جھوٹا نام ہے۔ اور اسی جھوٹ سے انہوں نے بہت سے لوگوں کو دھوکا دیا ہے۔ ان لوگوں کو اپنا نام ہندو سنگھ رکھنا چاہئے تاکہ لوگوں کو سمجھنے میں دھوکا نہ ہو۔ یہ ونے بھائی بنارس میں رہتے ہیں۔ ایک ہندو بزرگ نے اجودھیا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں مندر اور مسجد دونوں کو بننا چاہئے۔ ایک مناسب فاصلہ (reasonable distance) پر ہم دونوں ہی کو بنائیں گے۔ ایک ہندو نوجوان نے کہا کہ یہاں راج نیتک اکائی بکھرنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ساری دنیا میں راج نیتک اکائیاں ٹوٹ رہی ہیں۔ ہم اس سے الگ رہ سکیں گے ، اس میں مجھے شک ہے۔ مسٹر رام بہادر رائے نے کہا کہ ہندو مسلم سمبندھ کا سوال آج دیش کا سب سے بڑا سوال ہے۔ یہ اجودھیا سے پیدا ہوا ہے اور اجودھیا ہی سے اس کا حل نکلنا شروع ہوگا۔ ہمیں یہ سوچنا ہے کہ بھاجپا کو دلی کی کرسی پر بیٹھنے سے روکنا یہ ہماری پہلی ترجیح ہے یا ہندو مسلم سمبندھ بنانا ، یہ ہماری پہلی ترجیح ہے۔ مسٹر پر بھاش جوشی نے کہا کہ بھارت میں کبھی ہندو راجیہ نہیں بن سکتا۔ اس لئے کہ ہندو ازم میں راجیہ کا اسٹرکچر موجود ہی نہیں۔ اسلام میں اسلامی راجیہ بن سکتا ہے۔ کیوں کہ اسلام میں راجیہ کا اسٹرکچر پایا جاتا ہے۔ ہند وازم میں ایسا نہیں ہے۔ ایک صاحب نے اپنی تقریر میں بتایا کہ جے پر کاش نرائن ایک بار بالا صاحب دیورس سے ملے ۔ پھر وہ دل سے پٹنہ آئے۔ وہاں ایک میٹنگ میں انھوں نے لوگوں کے سوال پر بتایا کہ میں نے بالا صاحب دیورس سے پوچھا کہ آپ کے نزدیک ہندو کون ہے۔ بالا صاحب دیورس نے جواب دیا: ہندو وہ ہے جو ہندو پن کا آسمان چھوڑ دے۔ ایک صاحب نے بڑے درد کے ساتھ کہا کہ آج فرقہ وارانہ نفرت کا جو زہر پھیلا ہوا ہے ، اس کو اگر ہم ختم نہیں کر سکتے تو کم سے کم یہ تو کر سکتے ہیں کہ اس زہر کا کچھ حصہ ہم پی لیں ، تاکہ اس کی کچھ بوندیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page