Urdu book · اسفارِ ہند

سیوگرام کا سفر

Urdu book, p. 178

By Maulana Wahiduddin Khan

تو ہم کم کر سکیں۔ یہ کم سے کم ہے جو ہم کر سکتے ہیں۔ مسٹر رام بہادر رائے نے موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میرا فیملی ڈاکٹر پہلے کبھی ہندو اور مسلم کی بات نہیں کرتا تھا۔ مگر ۶ دسمبر کے بعد اب اتنا بدلائو آگیا ہے کہ اس نے مجھ سے کہا کہ پاکستان میں جس طرح ہندو رہتا ہے، بنگلہ دیش میں جس طرح ہندو رہتا ہے، اسی طرح مسلمانوں کو اس دیش میں رہنا ہوگا۔ تب فرقہ وارانہ مسئلہ حل ہوگا۔ ایک صاحب نے کہا کہ اسلام عرب میں آیا تو ٹوٹا ہوا عرب جڑ گیا۔ اور اسلام جب بھارت میں آیا تو جڑا ہوا بھارت ٹوٹ گیا۔ اس سے بڑی بدنامی اسلام کی اور کیا ہو سکتی ہے۔ ایک ہندو بھائی نے کہا کہ مسلمان ۱۹۴۷ء کے بعد سے ہمیشہ سرکار کے گرد گھومتے رہے۔ اب اس کا زمانہ ختم ہو گیا۔ اب مسلمانوں کو ہندو سماج سے جڑنا ہوگا۔ مسلمانوں کے لئے اس دیش میں اب کوئی اور راستہ نہیں۔ مسٹر پر بھاش جوشی نے کہا کہ مسلمان اب تک یہ سمجھتے رہے کہ ہمارا اوٹ میلٹنگ ہے ۔ ہمارے ووٹ سے حکومت کا فیصلہ ہوگا۔ اب یہ دور ختم ہو چکا۔ اب اس ملک میں صرف ہندو ووٹ سے سرکار بنے گی۔ انھوں نے کہا کہ البتہ ہندوؤں میں دو گروپ بن جائیں گے۔ کٹر ہندو، اور او دار ہندو۔ مہا دیو ڈی سائی کے فرزند مسٹر نارائن ڈیسائی نے کہا کہ آجکل کے لوگوں کا حال یہ ہے کہ پٹنہ کے ایک میدان میں جلسہ کا اعلان ہو رہا تھا۔ ایک آدمی نے کہا " آپ لوگ ہزاروں کی سنکھیا میں آئیں"۔ دوسرے شخص نے مائیک چھین لیا اور بلند آواز سے بولا: آپ لوگ کروڑوں کی سنکھیا میں آئیں ۔ یہ سن کر ایک آدمی بولا کہ اس چھوٹے سے میدان میں کروڑوں آدمی سمائیں گے کہاں۔ سیوا گرام میں نارائن ڈیسائی سے ملاقات ہوئی۔ وہ مہا دیو ڈی سائی کے لڑکے ہیں۔ مہا دیو ڈی سائی ایک اعلیٰ درجہ کے انگلش جرنلسٹ تھے۔ وہ غیر معمولی صلاحیت کے آدمی تھے۔ وہ ۱۹۱۶ میں مہاتما گاندھی کے سکریٹری بنے۔ وہ اپنی موت ۱۹۴۲ تک اس عہدہ پر رہے۔ سیوا گرام میں ان کو ۷۵ روپے ماہوار ملتے تھے جس میں وہ اپنی پوری فیملی کا خرچ چلاتے تھے۔ مسٹر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page