Urdu book · اسفارِ ہند

سیوگرام کا سفر

Urdu book, p. 179

By Maulana Wahiduddin Khan

بی آر نند کے الفاظ میں انھوں نے مہاتما گاندھی کے ساتھ اپنی عمر کے آخری ۲۵ سال رضاکارانہ غربت (voluntary poverty) میں گزارے۔ سیوا گرام میں وہ روزانہ اپنی ڈائری لکھا کرتے تھے جس میں مہاتما گاندھی کی باتیں اور ان کی روزانہ کی سرگرمیاں درج ہوتی تھیں۔ یہ ڈائری کئی جلدوں میں چھپی ہے جو مہاتما گاندھی کے حالات کو جاننے کے لئے نہایت اہم ماخذ سمجھی جاتی ہے۔ اس ڈائری پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک انگریز مسٹرویریر ایلون (Varrier Elwin) نے کہا تھا کہ مہادیو دیسائی نے گاندھی کو عالمی شہرت کا آدمی بنا دیا : He made Gandhi the best known man in the world. مہاتما گاندھی اور ان کے کانگریسی ساتھیوں نے کبھی مہادیو دیسائی کی وفاداری پر شک نہیں کیا مگر موجودہ زمانہ کے عجائب میں سے ایک عجب یہ بھی ہے کہ اس ملک میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جنھوں نے مہادیو دیسائی کو ایک برٹش انفارمر بتایا۔ اور خود مہاتما گاندھی کے بارہ میں انکشاف کیا کہ وہ ایک ففتھ کالمسٹ (fifth columnist) تھے (سنڈے ہندوستان ٹائئس ۲۳ مئی، ۱۹۹۳، صفحہ ۵) ایک صاحب کھڑے ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ میں ادھک سے نہیں لوں گا۔ میں ٹیلی گرافک لینگویج میں بولوں گا۔ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ ہمیں ایک common concern تلاش کرنا ہوگا جو ہندو اور مسلمان دونوں کے لئے ہو۔ میرے نزدیک وہ یہ ہے کہ دیش ایک کیسے رہے۔ اس کی ترقی کیسے ہو۔ ایک صاحب نے یہ تجویز پیش کی کہ آل انڈیا پیمانہ کا ایک سمتیلن کیا جائے۔ اس کا موضوع یہ ہو کہ غیر متشددانہ طریق زندگی کی طرف : Towards a non-violent way of life. ۷ مارچ کی آخری نشست عملی پرو گرام طے کرنے کے بارے میں تھی ۔ لوگوں نے اپنی اپنی رائےں دیں۔ میں نے کہا کہ جب عملی پرو گرام طے کرنا ہوتا ہے تو یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ اس کے لئے جو موافق مزاج درکار ہے وہ موجود ہے۔ مگر واقعہ میں چوں کہ ایسا نہیں ہوتا۔ اس لئے ہر پرو گرام عملاً فیل ہو جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page