سیوگرام کا سفر
Urdu book, p. 180
By Maulana Wahiduddin Khan
1947ء سے پہلے جن لیڈروں نے آزادی کا پروگرام قوم کے سامنے رکھا، انھوں نے یہ فرض کر لیا تھا کہ ہندوستانیوں میں وہ مزاج موجود ہے جو آزاد ہندوستان کی تعمیر کے لئے درکار ہے۔ اسی طرح جن مسلم لیڈروں نے علیحدہ پاکستان بنانے کا نعرہ لگایا انھوں نے بھی یہ فرض کر لیا تھا کہ علیحدہ پاکستان بننے کے بعد اس کی تعمیر کے لئے جو مزاج مطلوب ہے وہ مسلمانوں کے اندر موجود ہے۔ مگر دونوں ہی مفروضے غلط تھے۔ چنانچہ نہ آزاد ہندوستان میں مطلوبہ ہندوستان سکا اور نہ آزاد پاکستان میں مطلوبہ پاکستان۔ دیش کی ترقی کے لئے بلا شبہ ایک پروگرام درکار ہے۔ مگر پروگرام سے پہلے وہ افراد درکار ہیں جو اس پروگرام کو دل کی آمادگی کے ساتھ اختیار کریں۔ میں نے کہا کہ اس وقت ہندوؤں اور مسلمانوں میں یہ شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ اختلافات ہر سماج میں ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ اختلاف اور شکایت کے باوجود مل جل کر رہنا سیکھیں۔ ہمارے دیش کے مسئلہ کا حل وہی ہے جو کسی نے کہا کہ اختلافی باتوں کو پر امن طور پر طے کر لینا: Peaceful resolution of conflicts. اس مقصد کے لئے ہمیں intensive awareness programme جاری کرنا ہوگا۔ ۷ مارچ کی شام کو مغرب کی نماز سیواگرام میں پڑھی۔ اس کے بعد یہاں سے ہم لوگ ناگپور کے لئے روانہ ہوئے۔ میرے ساتھ مسٹر پر بھاکش جوشی اور مسٹر رام بہادر رائے تھے۔ ناگپور پہنچ کر ان دونوں صاحبان نے ایک ہوٹل میں قیام کیا۔ میں جناب محمد حنیف صاحب کے ساتھ ان کی رہائش گاہ پر چلا گیا۔ رات انھیں کے مکان پر گزاری۔ صبح کو انھوں نے سحری کے وقت جگایا۔ آج کے روزہ کی مختصر سحری میں نے انھیں کے گھر پر کھائی۔ ۸ مارچ کو صبح ۱۰ بجے ناگپور کے پترکار بھون میں پریس کانفرنس کو خطاب کیا۔ اس کا عنوان تھا: Meet the Press تقریباً تمام مقامی اخباروں کے نمائندے موجود تھے۔ سوالات کا موضوع زیادہ تر اجودھیا کا مسئلہ، تین نکاتی فارمولا، مسلمانوں کا موجودہ رخ، الزسالمن، تھا۔ اگلے دن ناگپور کے اکثر ہندی، انگریزی اور اردو اخباروں میں اس کی رپورٹ شائع ہوئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader