Urdu book · اسفارِ ہند

سیوگرام کا سفر

Urdu book, p. 181

By Maulana Wahiduddin Khan

مسٹر محمد سراج وہاب ایک انگلش جرنلسٹ ہیں۔ ان کے اندر تعمیری فکر ہے۔ ایئر پورٹ تک ان کا ساتھ رہا۔ میں نے ان سے کہا کہ آج ضرورت ہے کہ باصلاحیت مسلم نوجوان بڑی تعداد میں انگریزی اور ہندی اور دوسری ملکی زبانوں میں اچھے جرنلسٹ بن کر داخل ہو جائیں۔ مسلمانوں کے نادان لیڈر فرقہ وارانہ مسئلہ کے حل کے لئے پولیس اور فوج میں مسلم نمائندگی بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس قسم کا مطالبہ بالکل بے معنی ہے۔ زیادہ مفید بات یہ ہے کہ باصلاحیت نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ ملکی صحافت میں داخل کیا جائے۔ کیوں کہ یہی اخبارات ہیں جو فرقہ وارانہ آگ لگاتے ہیں، اور وہی اس آگ کو بجھا سکتے ہیں۔ صحافت کی اہمیت پر یہ شعر بہت با معنی ہے : کھینچو نہ کماں کو نہ تلوار سنبھالو گر توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو ناگپور میں آر ایس ایس کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ آر ایس ایس کی تنظیم ناگپور میں ۱۹۲۵ میں قائم کی گئی۔ اس کے بانی ڈاکٹر ہیڈ گوار ہیں۔ آر ایس ایس کے نظریات ہمیشہ سے نزاعی رہے ہیں۔ تاہم اس کی ایک خصوصیت ایسی ہے جس کا اعتراف اس کے مخالفین بھی کرتے ہیں، اور وہ ڈسپلن ہے۔ آر ایس ایس اپنے آغاز سے لے کر اب تک اس میں ممتاز رہی ہے۔ فیلڈ مارشل کیری پا (۱۹۹۳ - ۱۹۰۰) نے ایک بار وبے دسی کے فنکشن میں اس تنظیم کے سیوم سیوکوں کو دیکھا۔ ان کے ڈسپلن سے وہ غیر معمولی طور پر متاثر ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ وقت کی پابندی کے معاملہ میں اب تک فوج کی مثال دی جاتی رہی ہے، مگر اب تو اس کے لئے آر ایس ایس کی مثال دی جانی چاہئے : When it comes to punctuality in maintaining time-schedule the barometer is often referred to as ‘Army precision’, but now on it should be 'RSS precision'. اکثر مسلم دانشور آر ایس ایس کی تحریک کو فاشزم کے مماثل قرار دیتے ہیں۔ مگر زیادہ صحیح طور پر آر ایس ایس کا معاملہ جماعت اسلامی اور الاخوان المسلمون جیسی مسلم تحریکوں کے ساتھ مماثلت رکھتا ہے۔ اس قسم کی کوئی تحریک ابتدا اصولیت (fundamentalism) کی سطح پر اٹھتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page