Urdu book · اسفارِ ہند

سیوگرام کا سفر

Urdu book, p. 182

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد وہ تطرف (extremism) کی صورت اختیار کرتی ہے۔ اور آخر کار وہ ارباب (terrorism) کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کی واضح مثال مصر، الجزائر اور کشمیر میں دیکھی جاسکتی ہے۔ جو مسلم دانشور فلاح انسانیت کے نام پر آرایس ایس کی مذمت کرتے ہیں، ان کو اسی طاقت کے ساتھ جماعت اسلامی اور الاخوان المسلمون جیسی مسلم تحریکوں کی بھی مذمت کرنا چاہئے۔ کیوں کہ نتیجہ کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ سعودی عرب کی رابطۃ العالم الاسلامی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف نے مصر کے دورہ کے درمیان پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس قسم کی انتہا پسند مسلم تحریکوں کے نقطہ نظر کو منفی نقطہ نظر (negative attitude) قرار دیا۔ اور اسلام کی تخویفی تعبیرات (frightening interpretation) کی مذمت کی جو مسلم جوانوں کو لڑائی جھگڑے کی سیاست کی طرف لے جاتی ہے (العالم الاسلامی، مکہ، ۲۶ اپریل ۔ ۲ مئی ۱۹۹۳) ڈاکٹر نصیف کا یہ بیان اخبار العالم الاسلامی کے انگریزی حصہ میں چھپا ہے اور مذکورہ نقطہ نظر کی تائید کرتا ہے۔ ۸ مارچ کی شام کو انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۸۴۴ کے ذریعہ ناگپور سے دہلی کے لئے روانگی ہوئی۔ افطار کا وقت جہاز کے اندر ہوا۔ غالباً زندگی میں پہلی بار ہوائی جہاز یا کسی اور سواری کے اندر روزہ افطار کیا۔ اب تک کا میرا معمول تھا کہ میں روزہ میں سفر نہیں کرتا تھا۔ اس لئے سفر کے دوران سحری اور افطار کی نوبت بھی نہیں آتی تھی، جہاں تک یاد آتا ہے، یہ میری زندگی کا پہلا موقع تھا کہ میں نے روزہ کے مہینہ میں سفر کیا۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو جب بابری مسجد ڈھائی گئی تو دوسرے کروڑوں لوگوں کی طرح میرے لئے بھی یہ ایک ہلا دینے والا واقعہ تھا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے ملک کے مختلف حصوں کا سفر کر کے سب سے پہلے حالات کو سمجھنا ہے۔ ایک طرف میں نے ملاقاتوں کا سلسلہ بہت بڑھا دیا۔ دوسری طرف ہر موقع کو استعمال کرتے ہوئے بار بار سفر کئے۔ انھیں میں سے ایک سفر سیو اگራም کا تھا جو رمضان کے مہینہ میں پیش آیا۔ اس سفر سے میں نے جو باتیں جانیں ان میں سے کچھ کا مختصر ذکر اوپر آیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page