سیوگرام کا سفر
Urdu book, p. 183
By Maulana Wahiduddin Khan
انڈین ایئر لائنر کا فلائٹ میگزین (مارچ ۱۹۹۳) دیکھا۔ اس کے ٹائٹل کی پشت پر ایک انٹرنیشنل ہوائی کمپنی کا اشتہار تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ ایک اچھا تربیت یافتہ پائلٹ سب سے زیادہ اہم حفاظتی تدبیر ہے۔ چنانچہ ہماری کمپنی اس کا پورا اہتمام کرتی ہے۔ اس میں بہت بتایا گیا تھا کہ اعلی تربیت یافتہ پائلٹ تیار کرنے کے لئے انہوں نے اپنے ملک کے دو شہروں میں دو بڑے بڑے اسکول قائم کئے ہیں۔ ان میں ہر سال چھ ہزار امیدوار لے جاتے ہیں۔ ان کی نہایت سخت نفسیاتی اور ذہنی جانچ ہوتی ہے۔ اس جانچ میں بمشکل ۳۰ آدمی پاس ہوتے ہیں۔ اس کے بعد بھی ان کو ۱۹ سال کا تجربہ کرایا جاتا ہے۔ تب وہ اس قابل بنتے ہیں کہ وہ بڑے جہاز بوئنگ ۷۴۷ کے کیپٹن بن سکیں۔ میں نے سوچا کہ ایک بوئنگ میں چند سو مسافر ہوتے ہیں اور اس کے فائدے کے انتخاب میں لوگوں کو اتنی سخت تربیت کرائی جاتی ہے۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ کروڑوں افراد پر مشتمل ایک قوم کا قائد بننے کے لئے کسی تربیت یا تیاری کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی۔ کوئی بھی شخص ایک روز اپنے گھر سے نکل کر سڑک پر آتا ہے اور پرجوش تقریر کر کے قوم کا قائد بن جاتا ہے۔ مارچ ۱۹۹۳ کی ۸ تاریخ تھی۔ پونے سات بجے شام کو جہاز داہلی کے ایئر پورٹ پر اترا گیا۔ حسب معمول جہاز کے عملہ کی طرف سے اعلان شروع ہوا۔ اناؤنسر نے اعلانات کے دوران کہا: یا ترییوں کو چوٹ سے بچانے کے لئے اوپر لگے لاکر نہ کھولیں۔ جہاز کے یا تری اس کو سن کر ہنس پڑے۔ کیوں کہ یہ چھوٹا جہاز تھا اور اس میں "اوپر لگا ہوا لاکر" تھا ہی نہیں۔ ایئر ہاسٹس رٹے ہوئے الفاظ بول رہی تھی۔ تاہم ہندی کے بعد جب اس نے انگریزی میں اعلان کیا تو اس میں اس غلطی کی تصحیح کر دی گئی تھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader