میرٹھ کا سفر
Urdu book, p. 184
By Maulana Wahiduddin Khan
بنگلور کا سفر ہندوستانی اندولن (ممبئی) کے چیئر مین مسٹر دھوہتا کے بنائے ہوئے ایک پروگرام کے تحت مارچ ۱۹۹۳ کے آخری ہفتہ میں بنگلور کا سفر ہوا۔ بنگلور کے لئے میرا پہلا سفر غالباً ۱۹۵۰ میں ہوا تھا۔ اس کا مختصر تذکرہ الرساله جنوری ۱۹۸۰ میں دیکھا جا سکتا ہے (صفحہ ۲۶-۲۷)۔ یہ سفر خاص طور پر بنگلور کے لئے نہیں تھا۔ مختلف مقامات کا سفر کرتے ہوئے میں بنگلور پہنچا تھا۔ فروری ۱۹۷۰ میں دوسری بار میں نے بنگلور کا سفر کیا۔ اس کی روداد الجمعیتہ وکیلی ۶۔ ۲۰۔ ۲۷ مارچ ۱۹۷۰) میں تین قسطوں میں شائع ہوئی تھی۔ اس وقت بنگلور کی ایک مسجد کو دیکھ کر میں نے اس کے امام سے کہا تھا کہ مسجدوں کو ہم نے صرف عبادت خانہ کی حیثیت سے باقی رکھا ہے۔ حالانکہ ہر مسجد کو ایک اسلامی مرکز ہونا چاہئے۔ بلاشبہ مسجد کا پہلا مصرف اقامت صلوٰۃ ہے لیکن اسی کے ساتھ اگر مسجد کے اندر دار المطالعہ، لیکچر ہال، ریسرچ اکیڈمی، تبلیغ اور اشاعت اسلامی کے ضروری شعبے ہوں تو مسجد ایک مکمل تحریک کی حیثیت حاصل کر لے۔ ۱۹۷۰ میں شاید اس طرح کی مسجد کہیں موجود نہیں تھی۔ مگر آج ساری دنیا میں اس طرح کی کثیر مسجدیں بن چکی ہیں جہاں اس قسم کے تمام شعبے نہایت شاندار عمارتوں میں قائم ہیں۔ صرف امریکہ میں ایک ہزار ایسے اسلامک سنٹر ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کی تاریخ مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ مگر مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ برعکس طور پر مسلمانوں کو یہ خبر دے رہا ہے کہ دشمنان اسلام نے اسلام اور مسلمانوں کو ہر طرف تباہ کر رکھا ہے۔ بنگلور کے لئے میرا تیسرا سفر ستمبر ۱۹۸۳ میں ہوا۔ اس کی روداد الرساله مارچ ۱۹۸۴ میں شائع ہو چکی ہے۔ اس وقت میں نے بنگلور کی ایک تقریر میں کہا تھا کہ اسلام کو دوسرے مذاہب کے مقابلہ میں قابل ترجیح بنانے کے لئے کچھ لوگ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام افضل مذہب ہے۔ مگر یہ عصری زبان نہیں۔ کیوں کہ "افضلیت عقیدہ کی چیز ہے نہ کہ تبلیغ کی چیز۔ اگر آپ افضلیت کی زبان میں کلام کریں تو جدید ذہن کو وہ ایک پر اسرار مسئلہ دکھائی دے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader