Urdu book · اسفارِ ہند

میرٹھ کا سفر

Urdu book, p. 185

By Maulana Wahiduddin Khan

کیوں کہ جدید ذہن معلوم حقیقوں کو مانتا ہے نہ کہ پراسرار تصورات کو۔ اس کے بجائے اسلام کی ترجیحی صفت بتانے کے لئے ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ اسلام واحد تاریخی مذہب ہے۔ یہ زبان آج کا انسان بخوبی سمجھ سکتا ہے ۔ کیوں کہ تاریخ اس کے نزدیک ایک معلوم معیار کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کی ہر چیز تاریخی طور پر ثابت شدہ ہے۔ دوسرا کوئی مذہب تاریخ کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ بنگلور کے لئے میرا چوتھا سفر جون ۱۹۸۶ میں ہوا۔ اس کی رو داد الرسالم جنوری ۱۹۸۷ میں شائع ہو چکی ہے۔ اس سفر میں ایک بڑا عجیب واقعہ پیش آیا تھا جو مجھ کو صریح طور پر خدا کی نصرت معلوم ہوتا ہے۔ یہ سفر مذاہب کی عالمی کونسل (Council for the World Religions) کی کانفرنس میں شرکت کے لئے ہوا تھا۔ اس کا اہتمام ایک امریکی ادارہ نے کیا تھا۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ ہر شخص سے اس کا مقالہ پیشگی طور پر منگوایا گیا تھا۔ کار روائی کی صورت یہ تھی کہ ہر مقالہ کی فوٹو کاپی کانفرنس سے پہلے تمام شرکا کو فراہم کر دی گئی تھی۔ ہر ایک کے لئے ایک ریسپانڈنٹ مقرر تھا۔ کسی مقالہ کے بارہ سب سے پہلے اسی ریسپانڈنٹ کو اپنا تبصرہ پیش کرنا تھا۔ اس کے بعد صاحب مقالہ کو اس کا جواب دینا تھا۔ مجھ کو ڈاکٹر اچندر ورما کا ریسپانڈنٹ بنایا گیا تھا۔ اور میرے ریسپانڈنٹ ڈاکٹر آنڈاسپنر تھے ۔ یہ میرے لئے ایک نیا تجربہ تھا۔ مجھے فکر تھی کہ ڈاکٹر آنڈ اسپنر میرے مقالہ کے بارہ میں معلوم نہیں کیا تبصرہ کریں گے اور مجھ کو فوری طور پر اس کا کیا جواب دینا ہوگا۔ دہلی سے میری روانگی جس جہاز سے ہوئی اس میں کئی شرکا کے ساتھ ڈاکٹر اسپنر بھی موجود تھے۔ دوران پرواز وہ از خود میرے پاس آئے اور میرے مقالہ پر انھوں نے جو تنقیدی تبصرہ لکھا تھا اس کی ایک فوٹو کاپی انھوں نے پیشگی طور پر مجھے دی۔ یہ ایک غیر متوقع بات تھی۔ کیوں کہ کانفرنس کے منتظمین کی طرف سے ایسی کوئی ہدایت نہیں کی گئی تھی اور نہ اس کے دو دن جن شرکا میں سے کسی اور نے اپنا تبصرہ اس طرح پیشگی طور پر فراہم کیا تھا۔ ڈاکٹر اسپنر نے انتہائی طور پر لیا کیا۔ اس طرح مجھے پیشگی طور پر اپنے مقالہ کے بارہ میں اپنے ریسپانڈنٹ کا تبصرہ معلوم ہو گیا۔ مجھے کافی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page