Urdu book · اسفارِ ہند

میرٹھ کا سفر

Urdu book, p. 186

By Maulana Wahiduddin Khan

موقع مل گیا کہ اس پر پوری طرح غور کر کے اجلاس سے پہلے اس کا جواب انگریزی میں تیار کر سکوں۔ بنگلور کے لئے میرا پانچواں سفر موجودہ سفر ہے جو مارچ ۱۹۹۳ میں پیش آیا۔ مبئی کے مسٹر مدھو ہستار چیرمین ہندوستانی اندرولن تین نکاتی فارمولا کے سلسلہ میں غیر معمولی تعاون دے رہے ہیں۔ انھوں نے بنگلور میں کچھ محنت زافراد سے میری ملاقات کے لئے ایک خصوصی پرو گرام بنایا۔ ۲۶ مارچ ۱۹۹۳ کی صبح کو فجر سے پہلے گھر سے روانہ ہوا ۔ فجر کی نماز دہلی ایئر پورٹ پر پانچ بجے پڑھی۔ ایئر پورٹ کی انتظار گاہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک روشن اشتہار پر نظر پڑی۔ یہ گاڑی کے ٹائر کا اشتہار تھا۔ ٹائر کی تصویر کے ساتھ یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے: The tyre that never tires. اس جملہ کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ وہ ٹائر جو کبھی تھکتا نہیں۔ مگر اس ترجمہ میں وہ ادبی چاشنی منتقل نہیں ہوتی جو اصل انگریزی الفاظ میں ہے۔ تاہم یہ کوئی انگریزی زبان کی خصوصیت نہیں۔ بلکہ یہ ہر زبان کی بات ہے۔ ہر زبان کے الفاظ یا اسلوب میں بعض ایسی خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں جو صرف اسی زبان کا حصہ ہوتی ہیں۔ اس کو ترجمہ میں منتقل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ دہلی سے بنگلور کے لئے انڈین ائیر لائنز کی فلائٹ ۸۰۳ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں نیشنل ہیرالڈ (۲۶ مارچ) پڑھا۔ یہ اخبار ۲۵ سال پہلے جواہر لال نہرو نے جاری کیا تھا۔ جواہر لال نہرو انڈیا کے اول درجہ کے لیڈر تھے۔ مزید یہ کہ ۱۹۴۷ کے بعد سے اپنی آخر عمر (۱۹۶۴) تک وہ ملک کے وزیراعظم رہے۔ مگر ان کے مکمل سپورٹ کے باوجود نیشنل ہیرالڈ کبھی اول درجہ کا اخبار نہ بن سکا۔ دوسری طرف اس کے اردو ایڈیشن قومی آواز نے اردو صحافت میں ایک ممتاز حیثیت حاصل کرلی۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ قومی آواز اردو میں تھا اور اردو زبان میں اسے کوئی مقابلہ پیش نہیں آیا۔ قومی آواز کا صحافتی معیار بذات خود معمولی ہے۔ مگر اردو میں اعلیٰ معیار کی صحافت موجود ہی نہیں۔ اس لئے اردو میں قومی آواز کو اپنی جگہ بنانے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔ اس کے برعکس نیشنل ہیرالڈ انگریزی میں تھا۔ اور انگریزی میں کئی اعلیٰ معیار کے اخبار موجود تھے۔ ان کے مقابلہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page