Urdu book · اسفارِ ہند

میرٹھ کا سفر

Urdu book, p. 187

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نیشنل ہیرالڈ اپنے معمولی معیار کی بنا پر کوئی قابلِ ذکر جگہ حاصل نہ کر سکا۔ نیشنل ہیرالڈ جاری کہتے ہوئے جواہر لعل نہرو نے اس کو ایک پیغام دیا تھا۔ وہ پیغام یہ تھا کہ آزادی مصیبت میں ہے، اس کو اپنی پوری طاقت سے بچاؤ: Freedom is in peril. Defend it with all your might. آزادی حاصل کئے ہوئے اب تقریباً آدھی صدی بیت گئی ہے۔ مگر آج بھی نیشنل ہیرالڈ کے صفحہ پر یہ الفاظ چھپے ہوئے ہیں۔ گویا کہ آج بھی آزادی مصیبتوں میں پھنسی ہوئی ہے تحرِیک آزادی کے لیڈروں کو تو بڑائی مل گئی۔ مگر خود آزادی کو وہ بڑائی نہ مل سکی جس کے نام پر غیر معمولی قربانیاں دی گئی تھیں۔ ٹائمس آف انڈیا (۲۶ مارچ) میں مسٹر مکندن (Mr. Mukundan) کا انٹرویو تھا۔ وہ ملیالم کے ادیب اور ناول نگار ہیں۔ ان کو ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ دیا گیا ہے۔ انھوں نے تخلیقیت (creativity) کے بارہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کا تمام اعلیٰ ادب ان افراد نے پیدا کیا ہے جو مصیبتوں کا شکار تھے۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی مسرور آدمی کبھی کوئی اچھی کتاب لکھ سکتا ہے۔ دکھ اور مصیبت کا تجربہ ہی تخلیقی فنکَہ پیدا کرتا ہے: The experience of pain and agony is the inspiration for creativity. All creative artists experience this. (p. 4) دو گھنٹہ کی پرواز کے بعد جہاز نیچے آیا۔ ایئر ہاسٹس نے اعلان کیا کہ اب سے کچھ منٹ بعد ہمارا جہاز بنگلورائیر پورٹ پر اترے گا۔ براہ کرم اپنی کرسی کی پیٹی باندھ لیں: In a few minutes from now, we shall be landing at Bangalore airport. Please fasten your seat belt. جہاز کے پبلک ایڈرس سسٹم پر یہ الفاظ سن کر ایسا لگا جیسے کوئی پکارنے والا پکار رہا ہے کہ اے لوگو، خدا کے سامنے تمہاری حاضری کا وقت قریب آگیا۔ اٹھو اور فوراً اس کی تیاری میں لگ جاؤ۔ مسٹر مدھومتا پہلے ہی بمبئی سے بنگور آگئے تھے۔ وہ اور ڈاکٹر احمد سلطان وغیر ائیر پورٹ پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page