Urdu book · اسفارِ ہند

میرٹھ کا سفر

Urdu book, p. 188

By Maulana Wahiduddin Khan

موجود تھے۔ مسٹر موہنت نے بتایا کہ میں ڈاکٹر احمد سلطان سے بالکل واقف نہ تھا۔ ایئر پورٹ پر پہلی بار انھیں دیکھا۔ ان کا سنجیدہ حلیہ دیکھ کر میں ان کی طرف بڑھا۔ میری زبان سے نکلا؛ ”کیا آپ مولانا صاحب کو ریسیو کرنے کے لئے آئے ہیں؟“ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ اس طرح ہم دونوں ملے۔ ملنے کے بعد ایسا محسوس ہو گیا کہ ہم دیکھے بغیر ایک دوسرے کو پہچان رہے تھے۔ ایئر پورٹ سے روانہ ہوئے تو گاڑی ڈاکٹر سہیل صاحب چلا رہے تھے۔ وہ نہایت سنجیدہ نوجوان ہیں۔ ان کے والد ڈاکٹر احمد سلطان نے بتایا کہ کل صبح کے وقت وہ مکان میں اوپر کی منزل سے نیچے اتر رہے تھے۔ اور حالت یہ تھی کہ جوتا اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا کہ ایسا کیوں۔ ڈاکٹر سہیل نے کہا کہ ہمارا ڈار ایٹوری نیچے سورہا ہے۔ رات کو وہ دیر سے سویا تھا میں نے جوتے اس لئے ہاتھ میں لے لئے کہ کہیں جوتے کی آواز سے اس کی نیند خراب ہو جائے۔ ایئر پورٹ سے ہم لوگ سنچری کلب پہنچے۔ پہلے دن میرا قیام یہیں کے گیسٹ ہاؤس میں تھا۔ اس کلب کو وسولیسوریا (Sir M. Visvesvaraya) نے قائم کیا تھا۔ وہ ۱۸۶۱ میں پیدا ہوئے اور ۱۹۶۲ میں ان کا انتقال ہوا۔ یہ کلب ایک پر فضا مقام پر واقع ہے۔ اس میں ایک بڑی لائبریری بھی ہے۔ اس کے تحت تعلیم و ترقی کی مختلف سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔ بنگلور پہنچنے کے بعد ۲۶ مارچ کو میرے ساتھی مجھے اسی کلب میں لے گئے۔ ۲۷ مارچ کی صبح کو ڈاکٹر احمد سلطان صاحب دوبارہ یہاں آئے۔ ان کے ساتھ میں ان کی رہائش گاہ پر چلا گیا۔ بنگلور کے سنچری کلب میں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی، ان میں سے ایک پروفیسر ٹی رامیسن (فون نمبر 576595) تھے: Prof. T. Ramesan 10, John Armstrong Road Richards Town, Bangalore-560005 انھوں نے بتایا کہ مسٹر کمار آپا گاندھیاتی فلسفہ کے سب سے بڑے ماہر تھے۔ میں نے ان کے کئی لیکچر سنے ہیں۔ ایک لیکچر میں انھوں نے مہاتما گاندھی کا نظریہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ انڈیا کو ایک بڑا ملک نہیں بننا ہے بلکہ اس کو ایک اچھا ملک بننا ہے: India should not be a great country, but it must be a good country.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page