میرٹھ کا سفر
Urdu book, p. 189
By Maulana Wahiduddin Khan
پروفیسر آرنلڈ (Prof. T. W. Arnold) نے اپنی مشہور ومعروف کتاب دعوتِ اسلام (The Preaching of Islam) ۱۸۹۶ء میں مکمل کی جب کہ وہ علی گڑھ میں تھے۔ اس کتاب کا ایک باب انڈیا میں اسلام کی اشاعت پر ہے۔ اس میں وہ انیسویں صدی کے آخر کے حالات بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس زمانہ میں انڈیا کے اکثر شہروں میں تبلیغ اسلام کی سرگرمیاں زور و شور کے ساتھ جاری تھیں۔ بنگلور کے بارہ میں انھوں نے بتایا تھا کہ یہاں تبلیغی سرگرمیاں بہت زیادہ عام تھیں ایک مسلمان جو ۱۸۹۰ء میں یہاں کی ایک مسجد کا امام تھا، اس کی تنہا کوششوں سے بنگلور کے ۴۲ لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔ پروفیسر آرنلڈ نے بتایا کہ اس کا وعظ اتنا مقبول تھا کہ بعض اوقات خود ہندواس امام کو بلاتے تھے تاکہ وہ ان کو اسلامی وعظ سنائے: In Bangalore this practice is very general, and one of these preachers, who was the imam of the mosque about the year 1890, was so popular that he was even sometimes invited to preach by Hindus. (p. 285) ان وعظوں سے بعض اوقات یورپی افراد بھی اسلام قبول کر لیتے تھے۔ پروفیسر آرنلڈ نے لکھا ہے کہ اگر چہ مسلمانوں کی طرف سے سارے ملک میں تبلیغی سرگرمیاں جاری تھیں۔ مگر وہ بہت زیادہ مفید نہ تھیں۔ کیوں کہ ان مسلمانوں کا تبلیغی جوش زیادہ تر آریہ سماج یا مسیحی مشنریوں کی تردید میں صرف ہوتا تھا۔ اس طرح ان کی سرگرمیاں خالص تبلیغی نہ ہو کر دفاعی بن گئیں (صفحه ۲۸۶) بنگلور میں سب سے پہلے الرساله کے ایک مخالف نے الرساله کا آغاز کیا۔ ایک صاحب رمضان کے زمانہ میں اپنے مدرس کے سفیر کی حیثیت سے بنگلور آئے۔ انھوں نے اپنی تقریر وں میں الرساله کی شدید مخالفت کی۔ ایک صاحب، جو اس وقت سعودی عرب میں ہیں، انھوں نے سفیر صاحب کی زبان سے سب سے پہلے الرساله کا نام سنا۔ اس کے بعد انھوں نے کہیں سے الرساله کا ایک شمارہ حاصل کر کے پڑھا۔ ذاتی مطالعہ کے بعد الرساله انھیں اتنا پسند آگیا کہ انھوں نے الرساله کی ایجنسی حاصل کر کے اس کو بنگلور میں پھیلانا شروع کر دیا۔ عبداللہ برمی صاحب ایک مخلص اور نہایت مستعد نوجوان ہیں۔ وہ بڑے پیمانہ پر الرساله کی ایجنسی چلا رہے ہیں۔ ان کی مسلسل کوشش سے الرساله اس وقت بنگلور کے تعلیم یافتہ طبقہ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader