Urdu book · اسفارِ ہند

میرٹھ کا سفر

Urdu book, p. 190

By Maulana Wahiduddin Khan

کافی پھیل گیا ہے۔ انھوں نے ایک تعلیم یافتہ ہندو کے بارہ میں بتایا کہ انھوں نے الرسالہ انگریزی پڑھ کر کہا: مسلمانوں کے جتنے بھی انگریزی اخبار یا میگزین ہیں۔ ان کو میں نے پڑھا ہے۔ ان سب میں زیادہ ترشکایت والی باتیں ہوتی ہیں۔ انگریزی الرسالة واحد رسالہ ہے جس میں شکایتی بات نہیں ہوتی، بلکہ صرف اسلام کی بات ہوتی ہے۔ یہ رسالہ فطرت کا ترجمان ہے۔ اس کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی مسلمان نے نہیں لکھا ہے بلکہ یہ فطرت ہے جو ہم کو آواز دے رہی ہے۔ ۲۶ مارچ کی شام کو انڈین ایکسپریس کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر بالارام (H.S. Balaram) اپنے اسٹینو گرافر کے ساتھ سنچری کلب میں آئے۔ انھوں نے اجودھیا کے مسائل اور میرے تین نکاتی فارمولا پر تفصیلی انٹرویو لیا۔ اگلے دن اخبار پاسبان کے نمائندہ مسٹر عبد الخالق تشریف لائے اور انھوں نے اپنے اخبار کے لئے انٹرویو لیا۔ ہندو اخبار نویس اور مسلمان اخبار نویس کے سوالات میں اکثر میں نے ایک فرق پایا ہے۔ وہ یہ کہ مسلمان اخبار نویس کے سوالات زیادہ تر مسلم فرقہ کی شکایتوں کے گرد گھومتے ہیں اور ہندو اخبار نویس کے سوالات دیش کے قومی مسائل سے متعلق ہوتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس معاملہ میں مسلم اخبار نویس کو اپنا ذہن بدلنا چاہئے اور وسیع تر قومی حالات کی روشنی میں اپنی صحافت کو فروغ دینا چاہئے۔ ۲۶ مارچ کی شام کو ۳ بجے اُڑی کے شری وشویت سوامی جی سے ان کے آشرم پر ملاقات ہوئی۔ اس سفر کا خاص مقصد ان سے ملنا تھا۔ بنگلور میں ہمارا قافلہ ان کے مقامی آشرم میں پہنچا۔ ہم لوگ ایک خاص کمرہ میں لے جائے گئے۔ یہاں لکڑی کی بنی ہوئی ایک سادہ قسم کی مسہری تھی ، اس کے اوپر ہرن کی کھال بچھی ہوئی تھی۔ اس کھال کے اوپر سوامی جی بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم لوگوں کے لئے سادہ قسم کی کرسیاں بچھائی گئیں۔ کچھ ہندو چوٹے کے چپل بھی نہیں پہنتے، اور کچھ ہندو چمڑے کے اوپر بیٹھتے ہیں۔ اُڑی کے سوامی جی ایک دبے پتلے آدمی ہیں۔ لباس اور انداز میں انتہائی سادہ اور متواضع ہیں۔ بولتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر ریا و نمائش کا کوئی شائبہ نہیں۔ وہ ملکی حالات سے پوری طرح واقف تھے۔ حتیٰ کہ مسلم ٹنڈین کی کمزوریوں کا بھی انھیں بخوبی پتہ تھا۔ انھوں نے میرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page