میرٹھ کا سفر
Urdu book, p. 191
By Maulana Wahiduddin Khan
تین نکاتی فارمولا پر اپنی پسندیگی کا اظہار کیا اور اس سے پورا اتفاق کیا۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے واقعہ کے بعد میں اپنے ملکی اسفار میں ہندوؤں کے بہت سے دھرم گردوؤں سے ملا ہوں۔ ایک نئی بات مجھے یہ معلوم ہوئی کہ ان کے یہاں بہت بڑی بڑی مذہبی گدیاں ہیں۔ مگر ان کے یہاں "صاحب زادی" کا جھگڑا نہیں۔ ان کے دھرم گرو وایانات کے مطابق برہمیہ ہوتے ہیں، اس لئے ان کے یہاں بیٹا نہیں ہوتا، اور جب بیٹا نہیں ہوتا تو صاحب زادہ کی گدی نشینی کا جھگڑا بھی ان کے یہاں پیدا نہیں ہوتا۔ ۲۶ مارچ کی دوپہر کو جناب عزیز سیٹھ صاحب کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ۱۹۸۶ سے الرسالہ پڑھتے رہے ہیں اور اس کے نقطہ نظر سے اتفاق رکھتے ہیں۔ وہ کرناٹک منسٹری میں تھے۔ حال ہی میں انھوں نے استعفادے دیا ہے۔ ابھی وہ اپنی سرکاری رہائش گاہ پر ہی مقیم ہیں، جلد ہی وہ اپنے وطن میسور چلے جائیں گے۔ یہ رہائش گاہ ایک بہت بڑے کمپاؤنڈ کے اندر تھی جس میں بہت سے وزیروں کی رہائش گاہیں واقع تھیں۔ اس کمپاؤنڈ کے چاروں طرف اونچی دیوار بنی ہوئی تھی۔ منسٹروں کے مکانات کے لئے یہ طریقہ مجھے پسند آیا۔ دہلی میں ہر منسٹر کے مکان پر بہت سے اسلحہ بردار سپاہی کھڑے رہتے ہیں۔ اگر سب کے مکانات ایک ہی کمپاؤنڈ میں ہوں تو سکیورٹی کا خرچ بہت گھٹ جائے گا، کیوں کہ اس کے بعد کمپاؤنڈ کی حفاظت کی جائے گی نہ کہ ہر ہر مکان کی۔ عزیز سیٹھ صاحب کے ملاقات کے کمرہ میں ایک شیر (ٹائیگر) اسٹف کیا ہوا رکھا تھا۔ مجھے بھی شیر سے غیر معمولی دل چسپی ہے۔ شیر کی تصویر کو اکثر میں دیر تک دیکھتا رہتا ہوں۔ شیر کو دیکھ کر میری زبان پر یہ الفاظ آجاتے ہیں: شیر کو خدا نے اس کے آخری ماڈل پر بنایا ہے۔ کوئی آرٹسٹ اس پر دست در نہیں کہ وہ شیر جیسے جانور کے لئے کوئی دوسرا ماڈل تیار کر سکے۔ تاہم مسلم دانشوروں نے شیر کی بابت جو تصور قائم کیا ہے وہ سراسر خلاف واقعہ ہے۔ یہ لوگ شیر کو طاقت اور ٹکر او کی علامت سمجھتے ہیں۔ مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ شیر انتہائی طاقتور ہونے کے باوجود ٹکر او سے آخری حد تک اعراض کرتا ہے۔ شیر کی صحیح تعریف یہ ہے کہ طاقت ور ہو تب بھی کسی سے نہ ٹکراؤ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader