Urdu book · اسفارِ ہند

میرٹھ کا سفر

Urdu book, p. 192

By Maulana Wahiduddin Khan

۷ مارچ کی صبح کو سنچری کلب چھوڑ دیا اور ڈاکٹر احمد سلطان صاحب کی رہائش گاہ پر چلا آیا۔ ملاقات سے پہلے میں یہ سمجھا تھا کہ وہ کلینک کرتے ہوں گے۔ مگر یہاں آکر معلوم ہوا کہ وہ تاریخی اشیاء کی تجارت کرتے ہیں۔ ان کا وسیع مکان حیرت ناک قسم کی تاریخی اشیاء سے بھرا ہوا ہے۔ اس موضوع پر ان کی معلومات اتنی زیادہ ہیں کہ ان کو تاریخی نوادر کی انسائیکلو پیڈیا کہا جا سکتا ہے، اور ان کے مکان کو تاریخی اشیاء کا میوزیم۔ ڈاکٹر احمد سلطان صاحب الرسالہ کے مستقل قاری ہیں اور اس کے نقطہ نظر سے پورا اتفاق کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب سے کسی نے الرسالہ کی صبر کی پالیسی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ صبر کب تک۔ انھوں نے جواب دیا کہ موت تک؛ Until to the death. میں نے کہا کہ صبر تو ایک عبادت ہے۔ مومن جب صبر کرتا ہے تو وہ اپنے رب کے لئے صبر کرتا ہے (وَاِصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ) جس طرح نماز کی عبادت آخر عمر تک کرنا ہے اس طرح صبر کی عبادت بھی آخر عمر تک کرنا ہے۔ ڈاکٹر احمد سلطان کا تعلق سلطان ٹیپو کے خاندان سے ہے۔ انھوں نے سلطان کا یہ شعر بڑے ذوق وشوق کے ساتھ سنایا : نہ شادی داد سامانے نہ غم آورد نقصانے به پیش همت ما هرکه آمد بود مهمانے دو تعلیم یافتہ مسلمانوں سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنے آپ کو لبرل بتایا۔ لیکن گفتگو کے دوران وہ یہ ثابت کرنے لگے کہ ملک کا بٹوارہ مسلمانوں نے نہیں کرایا بلکہ ہند ؤوں نے کرایا۔ میں نے کہا کہ آپ اپنے آپ کو لبرل بتاتے ہیں، حالاں کہ آپ مسلمانوں کی وکالت کر رہے ہیں۔ انھوں نے کچھ چھوٹی چھوٹی مثالیں دے کر یہ ثابت کرنا چاہا کہ بٹوارہ کے ذمہ دار ہند و ہیں میں نے کہا کہ کسی تاریخی معاملہ میں اس طرح رائے قائم نہیں کی جاتی۔ تاریخ کا کوئی بھی واقعہ ہو، خواہ وہ پیغمبر اور اصحاب پیغمبر سے متعلق کیوں نہ ہو، اس میں ہمیشہ اور ہر حال میں کچھ ضمنی عوامل (subsidiary factors) ہوں گے اور ایک بنیادی عامل (basic factor) مبصر کو یہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ ضمنی عوامل کو نظر انداز کرے اور بنیادی عامل کو لے لے۔ اگر آپ ایسا نہ کریں تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page