میرٹھ کا سفر
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ تاریخ کے کسی واقعہ کی کوئی توجیہ نہیں کر سکتے۔ حتیٰ کہ تاریخ کے بارے میں کوئی واضح بیان دینا بھی آپ کے لئے ممکن نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی مانگ پر ملک کا بٹوارہ ہوا، اس لئے انصاف کی بات یہی ہے کہ مسلمان بٹوارہ کی ذمہ داری کو قبول کر لیں۔ ایسے معاملہ میں مانگ کرنے والا ذمہ دار ہے نہ کہ مانگ پر راضی ہونے والا۔ میرا تجربہ ہے کہ تعلیم یافتہ مسلمانوں میں ایک طبقہ ایسا پیدا ہو گیا ہے جو زبان سے اپنے آپ کو لبرل کہتا ہے۔ مگر اندر سے وہ کمیونل ہوتا ہے۔ ایسے لوگ نہ دیش کے کسی کام کے ہیں اور نہ مسلمانوں کے کسی کام کے۔ ڈاکٹر احمد سلطان ۸ جنوری ۱۹۹۳ء کو بنگلور کی ایک سڑک پر چل رہے تھے۔ اس وقت وہ موٹر سائیکل پر تھے اور ان کے صاحبزادے اس کو چلا رہے تھے۔ سامنے سے ایک ہندو اپنی کار میں آ رہے تھے۔ اتفاق سے ان کی کار موٹر سائیکل سے ٹکرا گئی۔ ڈاکٹر احمد سلطان سڑک پر گر گئے۔ ان کے پاؤں میں سخت چوٹ آئی۔ کار والے ہندو نے چاہا کہ وہ اپنی گاڑی میں بٹھاکر ڈاکٹر صاحب کو اسپتال لے جائے۔ مگر ڈاکٹر احمد سلطان نے نہ صرف یہ کہ مذکورہ ہندو کو برا نہیں کہا۔ بلکہ اس سے کہا کہ تم اپنی کار میں بیٹھ کر یہاں سے فوراً چلے جاؤ۔ کیوں کہ یہاں میرے جاننے والے بہت ہیں۔ وہ لوگ جمع ہو رہے ہیں اور وہ تم کو ضرور مار پیٹ کریں گے۔ وہ تم کو ہر گز نہیں چھوڑیں گے. اس لئے تم فوراً یہاں سے بھاگ جاؤ۔ اس طرح اصرار کر کے انھوں نے کار والے کو وہاں سے رخصت کر دیا۔ اس کے بعد اپنے لڑکے کے ساتھ اسپتال جا کر اپنی مرہم پٹی کرائی۔ اگلے دن وہ کار والا ہندو ڈاکٹر احمد سلطان کے مکان پر آیا۔ وہ ڈاکٹر صاحب کے پاؤں پر گر پڑا۔ اس نے کہا کہ آپ نے میرے ساتھ بہت بڑی مہربانی کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس سے کہا کہ یہ محض اتفاق کی بات ہے کہ تمہاری گاڑی میرے اسکوٹر سے ٹکرا گئی۔ اس میں تمہاری نیت شامل نہیں تھی۔ لوگوں کو اس واقعہ کا علم ہوا تو کئی مسلمانوں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ یہ شخص تو مسلم دشمن ہے۔ یہ تو وہ شخص تھا جو ایک بار بنگلور میں ہندو مسلم فساد کروا چکا ہے۔ اس سے انتقام لینا ضروری تھا۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader