Urdu book · اسفارِ ہند

میرٹھ کا سفر

Urdu book, p. 194

By Maulana Wahiduddin Khan

نے جان بوجھ کر اپنی گاڑی آپ کے اسکوٹر سے ٹکرا دی۔ اس کے بعد اس کو پکڑوانے کے لئے آپ کو ایک گولڈن چانس ملا ہے۔ آپ اس کو ہرگز نہ کھوئیں ۔ فوراً پولیس میں رپورٹ کریں ۔ وغیرہ۔ ڈاکٹر صاحب نے ان مسلمانوں کو جواب دیا : جاؤ، اب پھر کبھی وہ فساد نہیں کرائے گا۔ اس کا پہلا اثر یہ دیکھ لو کہ جو شخص پہلے نپٹنے کہنے کے لئے تیار نہیں تھا، وہ آج یہاں پاؤں چھو کر گیا ہے ۔ یہ ہے اخلاق کا کرشمہ۔ لوگ جوابی کارروائی کو دفاع سمجھتے ہیں۔ حالانکہ جوابی کارروائی نہ کرنا اس سے زیادہ بڑا دفاع ہے۔ بنگلور میں الرسالہ کے پڑھنے والے بہت ہیں۔ مگر موجودہ سفر بلا اعلان ہوا ۔ مقامی لوگوں کو میری آمد کی خبر نہ ہوسکی ۔ چنانچہ بہت کم افراد سے ملاقات ہوسکی۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کی از سر نو تعبیر (reinterpretation) کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا کہ آپ نے ایک صحیح کام کے لئے غلط لفظ استعمال کیا، یہ صحیح ہے کہ زمانہ بدل گیا ہے اور نئے حالات سامنے آگئے ہیں۔ مگر آج جس چیز کی ضرورت ہے وہ نئے انطباق (reapplication) کی ہے نہ کہ نئی تعبیر کی۔ ڈاکٹر احمد سلطان کی رہائش گاہ پر جناب مقصود علی صاحب (پیدائش ۱۹۲۵) سے ملاقات ہوئی۔ وہ بنگلور کے مشہور اردو اخبار سالار (جاری شده ۱۹۶۴) کے مالک اور چیف ایڈیٹر ہیں۔ وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں اور اس کے نقطۂ نظر سے اتفاق رکھتے ہیں۔ مقصود علی صاحب سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ وہ ذہین، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور نہایت سلجھے ہوئے آدمی ہیں۔ ان سے میں اتنا متاثر ہوا کہ رخصت کے وقت میں نے کہا کہ آپ میری ڈسکوری (دريافت) ہیں۔ آج (۲۷ اپریل) کا سالار دیکھا۔ اس کے صفحہ ۴ پر میرا ایک لمبا مضمون " اجودھیا کا مسئلہ " شائع کیا گیا تھا۔ اسی طرح سالار میں اکثر الرسالہ کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ۲۷ مارچ کو بنگلور کے غفار ہال میں ایک عمومی اجتماع ہوا ۔ اس میں زیادہ مسلمان اور کچھ غیر مسلم صاحبان شریک ہوئے۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اگر مجھے قرآن سے موجودہ مسلمانوں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page