Urdu book · اسفارِ ہند

میرٹھ کا سفر

Urdu book, p. 195

By Maulana Wahiduddin Khan

مسائل کا حل بتاتا ہوں، یہ آیت پیش کروں گا ومن يتوكل على الله فهو حسبه (الطلاق ۳) اس سے معلوم ہوتا ہے توکل ہمارے تمام مشکل معاملات کا یقینی حل ہے۔ اگر ہم قرآن کو مانتے ہیں تو ہمیں یقین کے ساتھ اس کو مان لینا چاہئے۔ پھر میں نے کہا کہ توکل یہ نہیں ہے کہ معاملہ کو اللہ کے اوپر ڈال کر گھر کے اندر بیٹھ رہو۔ یہ ایک طریق عمل کو چھوڑ کر دوسرا طریق عمل اختیار کرنے کا حکم ہے نہ کہ خود عمل کو چھوڑنے کا حکم۔ یہ اللہ کے بتائے ہوئے طریقہ پر بھروسہ کرنا ہے، اللہ کے بتائے ہوئے طریقہ میں کامیابی کا یقین کرنا ہے۔ مثلاً قرآن میں ہے کہ اگر تم اپنے مخالفین کے مقابلہ میں صبر وتقویٰ کی روش اختیار کرو تو ان مخالفین کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گی ۔ (آل عمران ۱۲۰) اسی طرح فرمایا کہ تمہارا مخالف گروہ اگر صلح پر آمادہ ہو تو تم اس سے صلح کر لو اور اللہ پر توکل کرو۔ اگر ان کی طرف سے دھوکہ کا اندیشہ ہو تو اللہ تمہارے لئے کافی ہے (الانفال ۶۲ - ۶۱) اب تو کل علی اللہ یہ ہے کہ سازشوں کے مقابلہ میں بھی صبر کی تدبیر پر یقین کیا جائے ۔ مخالفین کی طرف سے دھوکہ کے اندیشہ کے باوجود صلح کے طریقہ کو درست طریقہ سمجھا جائے۔ پروفیسر بشیر حسین (608963 :Tel) اور ان کے ساتھیوں کی خواہش تھی کہ میں بنگلور میں مزید ایک دن ٹھہروں اور اتوار کو 11 بجے ان کی میٹنگ میں خطاب کروں ۔ مگر مزید ٹھہرنے کا موقع نہیں تھا ۔ اس لئے میں ان کی دعوت کو قبول نہ کر سکا۔ ۲۸ مارچ کی صبح کو بنگلور سے دہلی کے لئے روانگی ہوئی۔ رہائش گاہ سے ائیر پورٹ تک ڈاکٹر احمد سلطان صاحب اپنی زندگی کے دلچسپ واقعات سناتے رہے ۔ وہ نہایت فہیم اور سنجیدہ آدمی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ۱۹۹۱ میں شموگا گئے ۔ وہاں کے لوگوں نے بتایا کہ یہاں گنیش چترتھی کا جلوس نکلنے والا ہے۔ وہ لوگ اپنا جلوس مسجد کے راستہ سے لائیں گے۔ اشتعال انگیزی کریں گے۔ اور پھر خونیں فساد برپا ہو جائے گا۔ اس کو روکنے کی تدبیر بتائیے۔ وہ لوگ گھبرائے ہوئے تھے۔ اپنے ذہن کے تحت انھیں روک ٹوک کے سوا کوئی اور بات معلوم نہ تھی۔ مگر سابقہ تجربہ کے تحت وہ یہ بھی جانتے تھے کہ روک ٹوک کا نتیجہ تباہی کے سوا کسی اور صورت میں نکلنے والا نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آپ لوگ جلوس رو کنے کو تدبیر سمجھتے ہیں۔ مگر میں کہتا ہوں کہ جلوس کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page