Urdu book · اسفارِ ہند

میرٹھ کا سفر

Urdu book, p. 196

By Maulana Wahiduddin Khan

نہ روکنا اس سے بھی زیادہ بڑی نند ہے۔ آپ اس کا تجربہ تو کریں۔ ڈاکٹر صاحب نے ان لوگوں کو مشورہ دیا کہ فی الحال آپ لوگ بالکل خاموش رہیں۔ کوئی جوابی کارروائی نہ کریں۔ جب وہ تاریخ آجائے جس روز جلوس نکلنے والا ہے تو آپ لوگ یہ کریں کہ باز ار سے ۲۰۔ ۲۵ کی تعداد میں پھولوں کا ہار خرید لائیں ۔ اس کو ایک ٹرے میں رکھ لیں ۔ ہندوؤں کا جلوس جب چلتا ہوا مسجد کے سامنے پہنچے تو آپ اطمینان کے ساتھ اس ٹرے کو لے کر سڑک پر آ جائیں ۔ اور جو ہندو لیڈر جلوس کے آگے چل رہے ہیں ان سب کا سواگت کرتے ہوئے ان کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈال دیں۔ شموگا کے مسلمانوں نے کہا کہ یہ تو آپ الٹی تدبیر بتا رہے ہیں۔ اس طرح تو وہ اور زیادہ دلیر ہو جائیں گے ۔ ڈاکٹر صاحب نے ان لوگوں کو سمجھایا اور کہا کہ آپ اپنی تدبیر کا تجربہ کر کے اس کی برائی کا انجام دیکھ چکے ہیں۔ اب آپ میرے کہنے سے اس دوسری تدبیر کا تجربہ بھی کر لیں ۔ شموگا کے مسلمانوں نے ایسا ہی کیا۔ نتیجہ نہایت شاندار نکلا۔ وہ لوگ جب پھولوں کا ہار لے کر باہر آئے اور ہندو لیڈروں کو ہار پہنانا شروع کیا تو اچانک ان کا سارا جوش ختم ہو گیا ۔ نعرہ اور باجے کی جگہ لوگ خوش ہو کر ایک دوسرے سے گلے ملنے لگے۔ مزید یہ کہ اگلے سال جب جلوس کی تاریخ آئی تو ان لوگوں نے خود ہی اپنے جلوس کی روٹ بدل دی۔ ۲۸ مارچ کو انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۸۰۴ کے ذریعہ بنگلور سے دہلی کے لئے روانگی ہوئی۔ راستہ میں کچھ اخبارات کا مطالعہ کیا۔ انگریزی اخبار ہندو (۲۸ مارچ) میں ایک مضمون آوا سے تیز رفتار جہاز (Supersonic Concorde) کے بارہ میں تھا۔ اس قسم کا جہاز پہلی بار ۱۹۷۶ میں اڑایا گیا تھا۔ اب اس میں کافی ترقی ہو چکی ہے اور مستقبل قریب میں مزید ترقی ہوگی۔ موجودہ جہاز میں ایک سو آدمی بیٹھتے ہیں ۔ بیسویں صدی کے خاتمہ پر ، جب کہ ایک جہاز میں تین سو آدمی بیٹھ سکیں گے ، اس کی قیمت دس بلین پونڈ ہو جائے گی ۔ بظاہر یہ ایک عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ آدمی آج اپنا سفر شروع کرے اور وہ گزشتہ کل کے دن اپنی منزل پر پہنچ جائے ۔ مگر آواز سے تیز رفتار جہاز نے اس کو ممکن بنا دیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page