میرٹھ کا سفر
Urdu book, p. 197
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ لندن سے صبح ساڑھے دس بجے واشنگٹن کے لئے روانہ ہوں تو جب آپ لندن پہنچیں گے اس وقت ابھی آپ کی گھڑی ساڑھے نو بجے کا وقت بتا رہی ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام جہاز لندن سے واشنگٹن سات گھنٹہ میں پہنچتا ہے، جب کہ آواز سے تیز رفتار جہاز ساڑھے تین گھنٹہ میں آپ کو لندن سے واشنگٹن پہنچا دیتا ہے۔ یہ جہاز ساٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتا ہوا اپنی منزل کی طرف سفر کرتا ہے۔ اس طرح کی مختلف حیرت انگیز معلومات مضامین میں درج تھیں۔ یہ جہاز انگلینڈ کے کارخانہ میں بنایا گیا ہے۔ اس مضمون کو پڑھنے کے بعد مجھے ایک سوال کا جواب معلوم ہوگیا۔ میں اکثر سوچتا تھا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے اپنے پولیٹیکل ایمپائر کو کھو دیا۔ اس کے بعد وہ ساری دنیا میں حقیر ہو کر رہ گئے۔ دوسری طرف اسی دور میں انگریزوں نے بھی اپنے پولیٹیکل ایمپائر کو کھویا ہے۔ مگر ان کی عزت بدستور باقی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انگریز کو پولیٹیکل ایمپائر کھونے کے بعد انڈسٹریل ایمپائر مل گیا جس پر وہ کھڑا ہو سکے۔ مگر مسلمانوں کے پاس صرف پولیٹیکل ایمپائر تھا اس سے محروم ہوتے ہی وہ گر کر زمین کی سطح پر آ گئے۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لئے اپنا انڈسٹریل ایمپائر بنانا ممکن نہیں۔ البتہ ایک اور چیز ممکن ہے۔ وہ آئیڈیولوجیکل ایمپائر ہے۔ مسلمان اپنا ایک طاقت ور آئیڈیولوجیکل ایمپائر بنا سکتے ہیں مگر اس کے لئے صبر کی ضرورت ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جس سے موجودہ مسلمان آخری حد تک خالی ہو چکے ہیں۔ سفر کے دوران جہاز کے اندر مختلف اخبارات دیکھے۔ انڈین ایکسپریس (۲۸ مارچ) میں مسٹر کلدیپ نیر کا ایک تبصرہ تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ۱۹۶۶ میں جب سابق ہندوستانی وزیر اعظم لال بہادر شاستری کا تاشقند میں اچانک انتقال ہوا ، اس وقت مسٹر کامراج کانگریس کے صدر تھے۔ اگر وہ پرائم منسٹر شپ کی گدی چاہتے تو اس وقت وہ آسانی سے اس پر قبضہ کر سکتے تھے۔ اس وقت کامراج کو پارٹی کے اوپر پورا کنٹرول حاصل تھا۔ لوگوں نے اصرار بھی کیا کہ وہ وزیر اعظم کا عہدہ قبول کر لیں۔ مگر کامراج نے خود اس کو نہیں کر دیا۔ دیانت دارانہ طور پر انھوں نے محسوس کیا کہ چونکہ وہ نہ انگریزی جانتے ہیں اور نہ ہندی، وہ انڈیا جیسے ملک کو ٹھیک طور پر نہ چلا سکیں گے جہاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader