میرٹھ کا سفر
Urdu book, p. 198
By Maulana Wahiduddin Khan
سرکاری دفاتر میں یہی دونوں زبانیں استعمال کی جاتی ہیں : The party’s old guard was in full control. قیادت کا موقع ملنے کے بعد صرف اس لئے قیادت پر قبضہ سے رک جانا کہ آدمی اس کا اہل نہیں ہے، یہ ایک ایسی نادر خصوصیت ہے کہ موجودہ زمانہ کے بڑے بڑے بزرگوں میں بھی اس کی مثال مشکل سے ملے گی۔ انگریزی اخبار ہندو (۲۸ مارچ) میں ایک فلسفیانہ مضمون کرشن چینتیہ کا تھا۔ اس کا عنوان تھا : Values for a sustainable society. اس مضمون میں دنیا کے بارہ میں جدید خیالات (modern world-views) کو بتاتے ہوئے جارج گیِلارڈ (George Gaylord) کا قول نقل کیا گیا تھا۔ اس نے کہا کہ انسان یقینی طور پر ارتقاء کا آخری مقصود نہیں تھا جس کا بظاہر خود کوئی مقصود نہیں۔ انسان کا منصوبہ نہیں بنایا گیا تھا، کیوں کہ فطرت کا عمل خود منصوبہ بند نہ تھا : Man was certainly not the goal of evolution, which evidently had no goal. He was not planned in an operation wholly planless. جدید مفکرین انسان اور کائنات کی توجیہہ میں سخت ناکام ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آخرت کے معاملے کو مانے بغیر اس کی توجیہہ کرنا چاہتے ہیں۔ دنیا میں حد درجہ منصوبہ بندی ہے اور مقصدیت بھی۔ مگر آخرت کو نہ ماننے کی وجہ سے سب کچھ انہیں عبث نظر آتا ہے۔ ۲۸ مارچ ۱۹۹۳ء کو صبح ۱۰ بجے جہاز دہلی ایئر پورٹ پر اترا گیا۔ لوگ ایک کے بعد ایک جہاز کے باہر آنے لگے۔ میں نے سوچا کہ جہاز جب فضا میں اڑ رہا تھا، اس وقت اگر یہ لوگ جہاز کا دروازہ کھول کر باہر آجاتے تو کیا وہ باہر آنا بھی وہی سا ہی ہوتا جیسا کہ اب لوگ باہر چل رہے ہیں۔ باہر نکلنے کا لفظ اگرچہ دونوں صورتوں میں یکساں ہے۔ مگر فضا میں اُڑتے ہوئے جہاز سے باہر نکلنا اور زمین پر ٹھہرے ہوئے جہاز سے باہر آنا، دونوں میں زندگی اور موت کا فرق ہے۔ بہت سے لوگ جو اس فرق کو نہیں جانتے وہ اڑتے ہوئے جہاز سے کود پڑتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ جہاز کے عملہ نے ان کو بچانے کے لئے کچھ نہیں کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader