Urdu book · اسفارِ ہند

پونہ کا سفر

Urdu book, p. 199

By Maulana Wahiduddin Khan

پٹنہ کا سفر 11 اپریل 1993 کی صبح کو مجھے دہلی سے پٹنہ جانا تھا۔ فجر کی نماز نظام الدین کی کالی مسجد میں پڑھی۔ مسجد میں داخل ہوا تو اس کو دیکھ کر اجودھیا کی بابری مسجد کا معاملہ یاد آگیا۔ اسال پہلے کالی مسجد خستہ حالت میں تھی۔ اس کا فرش ٹوٹے پھوٹے سنگ خار کا بنا ہوا تھا۔ آج اس عظیم مسجد کی مرمت ہو چکی ہے۔ پوری مسجد میں سفید سنگ مرمر کا ہموار فرش بن گیا ہے جب کہ اسی مدت میں اجودھیا کی بابری مسجد ڈھا کر ختم کر دی گئی۔ دونوں مسجدوں کے انجام میں اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب ایک لفظ میں تدبیر ہے۔ بد تدبیری نے بابری مسجد کے معاملہ کو بگاڑا۔ اور خوش تدبیری نے کالی مسجد کے معاملہ کو درست کر دیا۔ امام صاحب نے فجر کی نماز پڑھاتے ہوئے دوسری رکعت میں وہ آیت پڑھی جس کا ترجمہ یہ ہے : اے ایمان والو ، اللہ سے ڈرو۔ اور قول سدید ( درست بات) کہو۔ وہ تمہارے اعمال کو سدھارے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا ، اور جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرے اس نے بڑی کامیابی حاصل کی (الاحزاب 70 - 71) 1947 کے انقلاب کے بعد کالی مسجد بھی ہندوؤں کے قبضہ میں چلی گئی تھی اور بابری مسجد بھی ہندوؤں کے قبضہ میں۔ کالی مسجد کے امام نے جب واگزاراری کی کوشش شروع کی تو انہوں نے اس کو صرف ایک مسجد کا مسئلہ بنایا۔ اس کے برعکس بابری مسجد کی واگزاری کو کچھ خود ساختہ لیڈروں نے یہ کہہ کر اٹھایا کہ وہ 20 کروڑ مسلمان ہند کے عزت و وقار کا مسئلہ ہے۔ پہلی بات قول سدید تھی اور دوسری بات قول غیر سدید ۔ اس لئے پہلی مسجد کے معاملہ میں کامیابی ہوئی ۔ اور دوسری مسجد کے معاملہ میں مکمل ناکامی۔ پٹنہ کے لئے میرا پہلا سفر جولائی 1986 میں ہوا ۔ اس سفر کی روداد الرسالہ دسمبر 1986 میں چھپ چکی ہے۔ وہاں اس کو دیکھا جا سکتا ہے۔ پٹنہ کے لئے میرا دوسرا سفر جولائی 1991 میں ہوا ۔ یہ سفر الرسالہ سمپوزیم میں شرکت کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page