پونہ کا سفر
Urdu book, p. 200
By Maulana Wahiduddin Khan
لئے تھا۔ اس کی روداد الرسالہ اکتوبر ۔ نومبر ۱۹۹۱ء میں مفصل طور پر شائع ہو چکی ہے۔ موجودہ سفر پٹنہ کا تیسرا سفر تھا۔ یہ سفر لوک سوراج اندولن کی دعوت پر ہوا۔ اس کے کنویزر جنرل ایس کے سنہا (ریٹائرڈ) اور سکریٹری مسٹر ایش آکھوری ہیں۔ اس تیسرے سفر کی روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔ ۱۱ اپریل کو صبح سوا چھ بجے گھر سے نکلا۔ راستہ میں انڈیا انٹرنیشنل سنٹر سے مسٹر مدھو مہتا کا ساتھ ہو گیا۔ وہ ہندستانی اندولن کے چیئرمین ہیں اور مسٹر راج گوپال اچاری اور مسٹر جے پرکاش نرائن کے ساتھیوں میں سے ہیں۔ بیٹی کی ایک ممتاز فیملی سے ان کا تعلق ہے۔ راستہ میں انھوں نے بتایا کہ پچھلے سال انھوں نے گجرات کے دو ہزار دیہات کا سروے کرایا۔ اس کا مقصد پنچایت راج کے بارہ میں لوگوں کی رائے معلوم کرنا تھا۔ ان کا بیان ہے کہ تقریباً اتفاق رائے کے ساتھ گاؤں کے لوگوں نے کہا کہ یہ پنچایت راج نہیں ہے، یہ غنڈاراج ہے۔ ہم کو اس راج سے مکتی دلاؤ۔ گجرات میں یہ پنچائتی نظام ۱۹۶۳ء میں قائم کیا گیا تھا وہ ریاست کے تقریباً ۱۹ ہزار گاؤں کو کور کر رہا تھا۔ اس کا مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ کچھ معاملات میں دیہاتوں کے اندر ہی فیصلہ کیا جاسکے: To administer justice in certain matter in rural areas. (8/479) حقیقت یہ ہے کہ انصاف کا تعلق کسی نظام سے نہیں ہے، بلکہ افراد سے ہے۔ افراد اگر منصف ہوں تو فیصلہ منصفانہ ہوگا، افراد اگر غیر منصف ہوں تو فیصلہ بھی غیر منصفانہ ہو جائے گا۔ خواہ ایک سسٹم ہو یا کوئی دوسرا سسٹم۔ ایئر پورٹ کے ضروری مراحل سے گزر کر ہم لوگ انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۸۹۰ کے اندر داخل ہوئے۔ اس کی روانگی کا وقت ۸ بجے صبح تھا۔ ہوائی جہاز کے دروازے بند ہوگئے۔ اعلان ہوگیا کہ اب ہم پٹنہ کے لئے روانہ ہورہے ہیں۔ دہلی سے پٹنہ تک کی دوری ایک گھنٹہ ۳۰ منٹ میں پوری ہو جائے گی۔ تمام مسافروں نے حفاظتی پٹیاں باندھ لیں۔ گھڑی کی سوئی آگے بڑھنا شروع ہوئی۔ خیال ہوا کہ جہاز شاید کچھ لیٹ ہے۔ آستر کار سائیٹ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader