Urdu book · اسفارِ ہند

پونہ کا سفر

Urdu book, p. 201

By Maulana Wahiduddin Khan

آٹھ بج گئے۔ اب کپتان نے افسوس کے ساتھ اعلان کیا کہ بعض تکنیکی خرابی کی وجہ سے جہاز وقت پر روانہ نہیں ہوسکتا۔ جہاز کے بند دروازے دوبارہ کھول دئے گئے۔ پر امید چہرے اب بے یقینی کا منظر پیش کرنے لگے۔ لوگ امید و بیم کے دوگنہ احساس کے ساتھ انتظار کرنے لگے کہ کب جہاز کے عملہ کی طرف سے نیا اعلان کیا جاتا ہے۔ میں نے کھڑکی سے باہر کی طرف دیکھا تو اندھیرا اب اجالے میں تبدیل ہو چکا تھا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ زمین کی حرکت اپنی مقررہ رفتار کے ساتھ برابر جاری ہے۔ کسی تکنیکی خرابی نے اس کی حرکت کو نہیں روکا۔ کیسا عجیب ہوگا وہ خدا جو اس پر قادر تھا کہ کائنات کے تمام تقاضوں کو پیشگی طور پر سمجھ سکے ۔ اور ایک ایسا کارخانہ کائنات بنائے جس میں اربوں اور کروڑوں سال تک بھی کسی مرمت یا نظر ثانی کی ضرورت پیش نہ آئے۔ تاخیر کے ساتھ جہاز اپنی منزل کی طرف روانہ ہوا۔ آج کے اخبار (ہندوستان ٹائمس ۱۱ اپریل) میں پہلے صفحہ پر ایک خبر اس سرخی کے ساتھ تھی کہ _________ ہائی جیکروں پر قابو پالیا گیا (Hijackers overpowered) انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۴۳۴ ہم لکھنو سے دہلی کے لئے روانہ ہوئی ۔ اس میں عملہ سمیت ۵۹ لوگ سوار تھے۔ ۲۵ منٹ بعد چار نوجوان کھڑے ہو گئے۔ ان میں سے دو نے پیچھے کی طرف پوزیشن سنبھال لی اور دو نوجوان نے پبلک ایڈرس سسٹم پر قبضہ کرکے یہ اعلان کیا کہ ہم نے اس جہاز کو ہائی جیک کر لیا ہے۔ اتر پر دیش سرکار ہماری مانگوں کو پورا کرے ورنہ ہمارے پاس اکسپلو سو بہے۔ انھوں نے دھمکی دی کہ اگر ہمارے حکم پر عمل نہیں کیا گیا تو ہم پورے جہاز کو بم سے اڑا دیں گے ۔ یہ چاروں نوجوان لکھنو کے آرٹس کالج کے طالب علم تھے۔ جہاز کے اندر کھلبلی مچ گئی۔ وائرلیس کے ذریعہ لکھنو اور دہلی اور دوسرے کئی مقامات پر پیغام بھیج دیا گیا۔ مگر جہاز کے کچھ مسافر خاص طور پر ریٹائرڈ برگیڈیئر کپل موہن نے ہمت سے کام لے کر چاروں نوجوانوں کو پکڑ لیا۔ تلاشی کے بعد معلوم ہوا کہ ان کے پاس بم یا کسی بھی قسم کی کوئی خطر ناک چیز نہیں تھی۔ وہ محض "اخباری ہیرو" بننے کے لئے ہائی جیکنگ کا ڈراما کر رہے تھے۔ جہاز حفاظت کے ساتھ دوبارہ لکھنو کے ہوائی اڈہ (اموسی) پر اتار لیا گیا۔ مسافر کسی قدر تاخیر کے ساتھ دہلی پہنچا دئے گئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page