Urdu book · اسفارِ ہند

پونہ کا سفر

Urdu book, p. 202

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے اس خبر کو پڑھا تو میں نے سوچا کہ اکثر تخریب کاروں کا معاملہ یہی ہوتا ہے۔ تخریب کار اپنے آپ کو جتنا ظاہر کرتے ہیں، وہ اس سے بہت کم ہوتا ہے۔ آدمی اگر ہمت سے کام لے تو اکثر تخریب کاروں کو صرف تدبیر کے ذریعہ اسی طرح قابو میں کیا جا سکتا ہے جس طرح مذکورہ ہائی جیکروں کو قابو میں کر لیا گیا۔ ڈیڑھ گھنٹہ کی پرواز کے بعد ہم پٹنہ ائیر پورٹ پر اتر گئے۔ یہاں مختلف حضرات موجود تھے۔ میں مسٹر ایم علی خان کے ساتھ روانہ ہو کر عدالت گنج پہنچا۔ یہاں میرا قیام امنھیں کی رہائش گاہ پر تھا۔ پٹنہ ریاست بہار کی راجدھانی ہے۔ وہ طویل زمانہ تک سیاسی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ مگر شہر کے جس حصہ میں بھی جائیے، آپ کو گندگی اور کوڑے کا منظر دکھائی دے گا۔ ہمارے لیڈروں نے سیاسی تحریکیں تو بے شمار چلائیں۔ مگر صفائی تحریک انھوں نے ایک بھی نہیں چلائی۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے جو پٹنہ اور دوسرے شہروں میں ہر جگہ دکھائی دیتا ہے۔ 11 اپریل کو یہاں کے گرینڈ اپارٹمنٹس میں تعلیم یافتہ مسلمانوں کا ایک اجتماع ہوا۔ اس اجتماع کا موضوع۔ اجودھیا کا مسئلہ اور اس کا حل تھا۔ میں نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ اس معاملہ میں میرا نقطہ نظر کیا ہے۔ میں نے بتایا کہ ۱۹۷۴ء سے پہلے ایک بار میں اجودھیا گیا تھا۔ وہاں میں نے بابری مسجد میں دو رکعت نماز پڑھی تھی۔ تمنا تھی کہ دوبارہ وہاں جاؤں اور دوبارہ اس کے اندر نماز ادا کروں۔ مگر ۴ دسمبر ۱۹۹۲ کے حادثہ نے اس کا امکان ختم کر دیا۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں میں نے جو سہ نکاتی فارمولا پیش کیا ہے، اس کے حوالہ سے کچھ لوگ میرے اوپر جھوٹے الزامات لگا رہے ہیں۔ اس کا جواب میری طرف سے وہی ہے جو ایک عرب عالم نے اسی طرح کے اتہام کے جواب میں کہا تھا: سیعلم قومی اننی لا اغشہم ومعا استطال اللیل فالصبح واصل میں نے کہا کہ ۱۹۸۶ سے لے کر ۱۹۹۲ تک میں یہ کہتا رہا کہ اس مسئلہ کو ایجی ٹیشن کا ایشو نہ بناؤ بلکہ اسے ثالثی کے اصول پر طے کر لو۔ مگر مسلمانوں کے نااہل لیڈروں نے اس کو نہیں مانا۔ یہاں تک کہ ان کے غلط طریق کار کے نتیجہ میں بابری مسجد ڈھا دی گئی۔ اگر وہ ثالثی فارمولا کو مان لیتے تو یقینی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page