پونہ کا سفر
Urdu book, p. 203
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ بابری مسجد ہرگز نہ ڈھائی جاتی۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد حالات مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔ شریعت کا مسئلہ ہے کہ حالات کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں۔ اس لئے میں نے نئے حالات کے پیش نظر سے نکاتی فارمولا پیش کیا ہے۔ اب یہ ناممکن ہو چکا ہے کہ بابری مسجد دوبارہ اپنی سابقہ جگہ پر بنائی جائے۔ فارمولے میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ اس طوفان کو بس ایک پر روک دیا جائے ۔ اس کو ایک کے بعد مزید آگے بڑھنے نہ دیا جائے۔ ۱۱ اپریل ۱۹۹۳ کی شام کو ۴ بجے بھارتیہ نرتیہ کلامندر کے ہال میں پبلک میٹنگ تھی۔ ہندو اور مسلمان دونوں بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ یہ ایک سمپوزیم تھا جس کا عنوان کیونل ہارمنی تھا۔ مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ میں نے اپنی تقریر میں جو کچھ کہا اس میں سے ایک یہ تھا کہ کیونل ہارمنی بلا شبہ وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ مگر اس کے لئے عام طور پر جو تجویزیں پیش کی جا رہی ہیں وہ اصل مسئلہ سے غیر متعلق ہیں۔ میں نے کہا کہ کیونل ہارمنی کا ذریعہ کمیونل یونی فیکیشن نہیں۔ بلکہ کمیونل ایڈ جسٹمنٹ ہے۔ تنوع نیچر کا ایک قانون ہے جو پوری کائنات میں قائم ہے۔ وہی انسانی سماج میں بھی مطلوب ہے۔ ہمیں انسانوں کے اندر کلچر اور مزاج کے تنوع کو قبول کرنا ہے۔ اس کو ختم کرنے کی ہر کوشش یقینی طور پر ناکام ثابت ہوگی۔ مہاتما گاندھی نے پیس کو اتنا بڑھایا کہ وہ انڈیا کی علامت بن گیا۔ مگر آج ہم دوسروں کو یہ کہنے کا موقع دے رہے ہیں کہ پیس انڈیا کے لئے ایکسپورٹ آئٹم ہے، وہ لوکل کنزمپشن کے لئے نہیں۔ ۱۲ اپریل کی صبح کو ہندوستان ٹائمس اور ٹائمْس آف انڈیا کے مقامی نمائندوں نے انٹرویو لیا۔ یہ دونوں مسلم نوجوان تھے۔ یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ مسلم نوجوان بڑی تعداد میں انگلش جرنلزم میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ تمام تر خود نوجوانوں کے ذاتی شوق سے ہو رہا ہے۔ نام نہاد مسلم قیادت پچھلے ۴۰ سال سے لوگوں کو اس وہم میں ڈالے ہوئی تھی کہ اصل کام خود اپنا انگریزی اخبار نکالنا ہے۔ حالاں کہ زیادہ صحیح رہنمائی یہ تھی کہ نوجوانوں کو ابھارا جائے کہ وہ ملک کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader