پونہ کا سفر
Urdu book, p. 204
By Maulana Wahiduddin Khan
انگریزی اخباروں میں زیادہ سے زیادہ داخل ہوں۔ تاہم اب نوجوانوں نے خود اپنے شوق کے تحت یہ کام شروع کر دیا ہے۔ ۱۴ اپریل کی شام کو 3 بجے پٹلی پترا ہوٹل میں پریس کانفرنس ہوئی۔ تقریبا تمام اخباروں کے نمائندے موجود تھے۔ میرے سوا مسٹر مدھو مہتا اور جنرل سنہا بھی موجود تھے۔ میں نے ابتداً مختصر خطاب کیا۔ اس کے بعد سوال و جواب کی صورت میں پریس کانفرنس جاری رہی۔ اگلے دن پٹنہ کے تمام انگریزی اخباروں میں اس پریس کانفرنس کی رپورٹ شائع ہوئی۔ پٹنہ میں ۱۲ اپریل کو سید اعجاز حسین آروی سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ آره میں ایک کربلا (امام باڑہ) ہے۔ یہ مولا باغ میں ہے۔ دسمبر 1992 میں ایسا ہو اکچھ ہندوؤں نے اس عمارت کے اوپر مہاویری جھنڈا (بھگو ا جھنڈا) لگا دیا۔ یہ ایک اشتعال انگیز واقعہ تھا۔ چنانچہ مقامی مسلمانوں میں اس پر تناؤ پیدا ہوا ۔ مسلمانوں نے چاہا کہ جھنڈے کو اتار کر پھینک دیں۔ اس وقت کچھ سمجھ دار مسلمان آگے آئے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں خود کوئی مخالفانہ کارروائی کرنے کے بجائے پولیس کو رپورٹ کرنا چاہئے۔ انھوں نے کوئی جلوس نہیں نکالا۔ بلکہ چند مسلمانوں کا ایک وفد بنایا۔ اس وفد نے وہاں کے ایس پی اور انتظامی ذمہ داروں سے ملاقات کی۔ پولیس افسر نے کہا کہ آپ لوگ جائیے اور جھنڈا اتار دیجئے، ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔ مگر وفد نے کہا کہ ہم اس کو نہیں اتاریں گے۔ یہ کام آپ کو کرنا چاہئے۔ مسلمانوں نے جب کوئی ایکشن نہیں لیا تو اگلے دن پولیس والے اس مقام پر آئے اور عمارت کے اوپر چڑھ کر مہاویری جھنڈا اتار دیا اور اس کو اپنے ساتھ لے گئے۔ اس کے بعد پولیس کی طرف سے وہاں چند دن تک پہرہ رہا۔ مگر بات ختم ہوگئی اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس طرح کے معاملات میں یہی درست طریقہ ہے، ایسے مواقع پر نہ جلوس نکالنا چاہئے نہ خود ایکشن لینا چاہئے۔ نہ اور کسی قسم کی دھوم مچانا چاہئے۔ صرف وہی کرنا چاہئے جو آ رہ کے مسلمانوں نے اس معاملے میں کیا۔ اس کے بعد انشاء اللہ کبھی فرقہ وارانہ فساد کی نوبت نہیں آئے گی۔ مسٹر ایم ٹی خان نے پٹنہ میں الرسالمشن کی سرگرمیوں کے بارہ میں بہت سی باتیں بتائیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader