Urdu book · اسفارِ ہند

پونہ کا سفر

Urdu book, p. 205

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ لوگ پابندی سے یہاں ماہانہ اجتماع کر رہے ہیں۔ یہ اجتماع پرو فیسر شہاب دہلوی کی رہائش گاہ پر ہوتا ہے۔ الرسالہ مشن سے وابستہ افراد اس موقع پر جمع ہو کر مشن کی بابت مشورہ اور گفتگو کرتے ہیں۔ مسٹر ایم ٹی خان اور ان کے ساتھیوں نے پٹنہ میں تین نکاتی فارمولا پر ایک سیمنار بھی کیا تھا جو بہت کامیاب رہا۔ پٹنہ کے صاحب فہم حضرات بڑی تعداد میں اس میں شریک ہوئے جن میں مسلمان بھی تھے اور ہندو بھی۔ اس سیمنار میں کھلے مباحثہ کے بعد تین نکاتی فارمولا کی مکمل تائید کی گئی۔ اور مقامی اخباروں میں اس کی رپورٹ بھی شائع ہوئی۔ سیمنار کے موقع پر ایک خوبصورت دو ورتہ انگریزی زبان میں تقسیم کیا گیا۔ اس میں الرسالہ مشن کے تعمیری پروگرام کا تعارف کیا گیا تھا۔ لوگوں نے اس دو ورتہ کو کافی پسند کیا۔ الرسالہ مشن کے خلاف ۳۵۲ صفحہ کی ایک کتاب چھپی ہے۔ ۱۹۹۰ میں یہ کتاب چپ کر سامنے آئی تو کچھ لوگوں نے کہا کہ الرسالہ میں اس کا جواب دینا چاہئے۔ میں نے کہا کہ اس کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ یہ کتاب اپنی تردید آپ ہے۔ جو لوگ اس کتاب کو پڑھیں گے، ان کاتقین الرسالہ مشن کی صداقت پر اور پختہ ہو جائے گا۔ میرے اس قیاس کی ایک تصدیقی مثال پٹنہ کے زمانہ قیام میں معلوم ہوئی۔ یہاں ڈھاکلہ (بہار) کے جناب عطاء اللہ صاحب آئے تھے۔ انھوں نے اپنے یہاں کے ایک صاحب کا تاثر عین یہی بتایا جنھوں نے کہ اس نام نہاد تنقیدی کتاب کو پڑھا تھا۔ عطاء اللہ ڈھاکوی نے بہار کی دیہاتی زبان میں اس کو اس طرح بتایا: ”ایک صاحب جو ایک خاص جماعت سے تعلق رکھتے ہیں، ان کو یہ تنقیدی کتاب ہاتھ لگی۔ انھوں نے اسے پڑھ کر مجھ سے کہا کہ اے عطاء اللہ، کہتو اتو اسے لئے پڑھ من کہ اے میں مولا نا کا پوسٹ مارٹم کئے ہوئیٔ۔ لیکن اس کو پڑھ کر ایسا لگا کہ اے میں تو خالی مولانا کی تعریف ہے۔ اب ہم ہو مولانا کے تسلم کا قائل ہو گیو۔“ ۱۲ اپریل کو پٹنہ سے دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔ جہاز کا مقرر وقت شام کو ۶ بجے تھا۔ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایر پورٹ پہنچا تو معلوم ہوا کہ جہاز ابھی کلکتہ میں کھڑا ہوا ہے، وہ وہاں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page