پونہ کا سفر
Urdu book, p. 206
By Maulana Wahiduddin Khan
سے روانہ نہیں ہوا۔ مزید یہ کہ وہ کئی گھنٹے لیٹ ہو سکتا ہے۔ اس خبر کے بعد میں دوبارہ قیام گاہ کی طرف واپس آگیا۔ عدالت گنج میں مسٹر ایم ٹی خان کی رہائش گاہ پر کئی تعلیم یافتہ اصحاب جمع ہو گئے۔ چنانچہ مجلس کی صورت میں گفتگو ہوتی رہی۔ آخر کار ائیر پورٹ سے بذریعہ ٹیلی فون اطلاع ملنے پر دوبارہ ایئر پورٹ آیا۔ جہاز پٹنہ سے پانچ گھنٹہ لیٹ ہو کر روانہ ہو سکا۔ یہ ایئر انڈیا کی فلائٹ ۸۱۰ تھی جو کلکتہ اور دہلی کے درمیان چلتی ہے۔ پٹنہ ائیرپورٹ کی انتظار گاہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ دیوار پر نظر پڑی۔ اس پر لکھا ہوا تھا یہاں سگریٹ نہ پینے کا شکریہ:
Thanks for not smoking here.
یہ سگریٹ نوشی سے منع کرنے کا انچھوتا طریقہ ہے۔ عام طور پر ایسے مقامات پر لکھا ہوا ہوتا ہے کہ ”یہاں سگریٹ پینا منع ہے۔“ یا ”سگریٹ نہ پیجیے!“ اس قسم کے جملہ سے یہ تاثر ہوتا ہے کہ آپ دوسروں کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ ایسا نہ کریں۔ لیکن مذکورہ جملہ اس کے بجائے یہ فرض کر رہا ہے کہ آپ نے خود اپنے احساس کے تحت پبلک مقام پر سگریٹ نہیں پیا۔ اور اب شکریہ ادا کرنے والا آپ کی اس خوش اخلاقی پر آپ کا اعتراف کر رہا ہے۔ جہاز کے اندر مختلف اخبارات دیکھنے کے لئے موجود تھے۔ ہندوستان ٹائمنس (۱۲ اپریل) میں مسٹر ایس ایس گل (S.S.Gill) کا ایک مضمون تھا۔ اس مضمون کا عنوان تھا: بمبئی کے بعد (Beyond Bombay) اس مضمون میں ملک کے موجودہ سنگین حالات کا تذکرہ تھا۔ مضمون ان الفاظ پر ختم ہوا تھا:
In modern times, India has never before faced such a threat to its integrity and its very existence as a nation state. And we have never been so ill-equipped to face this challenge. The maladies are known, the remedies are known, but the physician is missing.
جدید دور میں انڈیا کو ایک قومی ریاست کی حیثیت سے اس کے استحکام بلکہ اس کے وجود کے لئے کبھی ایسا خطرہ پیش نہیں آیا تھا جیسا کہ اس وقت اسے درپیش ہے۔ اور ہم اس چیلنج کا مقابلہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader