پونہ کا سفر
Urdu book, p. 207
By Maulana Wahiduddin Khan
کرنے کے لئے کبھی اتنے بے سہارا نہ تھے۔ بیماری معلوم ہے۔ دوا بھی معلوم ہے، مگر ڈاکٹر موجود نہیں۔ (صفحہ ۱۳) لیکن میرا خیال ہے کہ جو چیز غیر موجود ہے، وہ ایک اور چیز ہے۔ یہاں بیماری اور دوا معلوم ہے۔ ڈاکٹر بھی موجود ہے۔ مگر کمی یہ ہے کہ لوگوں میں دوا کے استعمال کا جذبہ نہیں۔ مہاتما گاندھی کا ڈاکٹر ہونا سب کے نزدیک مسلم ہے۔ مگر ہندو مسلم بھائی چارہ کے لئے جو کچھ انھوں نے کہا اس کو ان کی زندگی ہی میں قبول نہیں کیا گیا۔ جواہر لال نہرو کو سب لوگ ڈاکٹر کا درجہ دیتے ہیں مگر ان کا سیکولرزم خود ان کی پارٹی نے بھی اختیار نہیں کیا۔ اس طرح پچھلے سو سال کے اندر بہت سے دھرماتما پیدا ہوئے اور آج بھی موجود ہیں۔ مگر ان کے پرچار کے باوجود کوئی دھرم کی اصل تعلیمات پر نہیں چلتا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کا اصل کام لوگوں کے مزاج کی تربیت ہے تاکہ وہ ڈاکٹر کے مشورہ کو مان سکیں۔ اسی مزاج کے بننے یا نہ بننے پر ملک کے مستقبل کا انحصار ہے۔ میں دہلی پہنچا تو رات کے ایک بج چکے تھے۔ اگر جہاز اپنے وقت پر روانہ ہوتا تو میں ۱۲ اپریل کی شام کو ۸ بجے دہلی پہنچ جاتا۔ مگر جہاز کے لیٹ ہونے کی وجہ سے غیر معمولی تاخیر ہوئی۔ اور میں دہلی اس وقت پہنچا جب کہ اپریل کی ۱۳ تاریخ شروع ہو چکی تھی۔ کیلنڈر کی تاریخ اسی طرح بدلتی رہے گی یہاں تک کہ وہ وقت آ جائے گا جب کہ زندگی اپنی آخری منزل پر پہنچ جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader