بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 208
By Maulana Wahiduddin Khan
بمبئی کا سفر بمبئی سے مسٹر مدھو مہتا اور مسٹر اروندیش پانڈے کے دستخط سے ایک دعوت نامہ ملا۔ جس میں بتایا گیا تھا کہ لوک سوراج اندولن بمبئی میں ایک آل انڈیا شہری کنونشن منعقد کر رہا ہے۔ یہ کنونشن بمبئی (انڈین مرچنٹس چیمبر) (citizen's convention) میں ۳ اپریل ۱۹۹۳ کو ہوگا۔ اس کے داعیوں میں ممتاز شہریوں کے نام تھے۔ مثلاً مسٹر بی کے نہرو، مسٹر این اے پالکھ والا، مسٹر مینو مسانی، مسٹر جسٹس سی ایس دھر مادھیکاری، مسٹر رام کرشن بجاج، مسٹر پرتاپ بھوگی لال، مسٹر آلوک جاجوڈیا، وغیرہ۔ اس کنونشن کا موضوع تھا : The survival of India as a nation. اس دعوت نامہ کے مطابق بمبئی کا سفر ہوا۔ ۲ اپریل ۱۹۹۳ کی شام کو گھر سے روانہ ہوا۔ نظام الدین سے ایئر پورٹ کی طرف جاتے ہوئے دائیں بائیں کے مناظر مسلسل دکھائی دے رہے تھے۔ گرمیں نے محسوس کیا کہ کوئی نیا آئیڈیا میرے ذہن میں نہیں آرہا ہے۔ مجھے یاد آیا کہ کچھ عرصہ پہلے میں ایک نئے ملک کی راجدھانی میں اترا تھا جب میں ایئر پورٹ سے شہر کی طرف روانہ ہوا تو ہر اگلا منظر ایک نیا خیال میرے ذہن میں پیدا کرنے لگا۔ میں نے سوچا کہ دہلی کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے ایسا کیوں نہیں ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ دہلی کا یہ راستہ بار بار دیکھنے کے بعد میرے لئے ایک مانوس راستہ بن گیا ہے۔ جب کہ مذکورہ شہر کی سڑکیں اور اس کے مناظر میرے لئے بالکل نئے تھے۔ نیا آئیڈیا یا زیادہ تر نئی چیز کو دیکھنے سے پیدا ہوتا ہے۔ اسی لئے قرآن میں سیاحت کا ذکر خصوصی اہمیت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ کیوں کہ سیاحت کے دوران آدمی نئی نئی چیزوں کو دیکھتا ہے۔ اس کی وجہ سے اس کو نئی عبرتیں اور نئی دریافتیں حاصل ہوتی ہیں۔ ایئر پورٹ پہنچ کر پہلا مرحلہ بورڈنگ کارڈ دینے کا ہوتا ہے۔ پہلے یہ نظام تھا کہ مختلف ڈلیک پر مختلف مقامات کی تختیاں لگی ہوتی تھیں۔ آدمی کو ایئر پورٹ میں داخل ہونے کے بعد تلاش کرنا پڑتا تھا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader