Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 209

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ اس کو جس مقام پر جانا ہے اس کی تختی کہاں لگی ہوئی ہے۔ مگر اب یہ سہولت ہے کہ آپ کسی بھی ڈلیک سے کسی بھی مقام کے لئے بور ڈنگ کار ڈلے سکتے ہیں ۔ یہ کمپیوٹر کا کرشمہ ہے ۔ کمپیوٹر نے موجودہ زمانہ میں ہر چیز میں غیر معمولی انقلاب پیدا کر دیا ہے۔ یہ ترقییاں شاید جنت کا ابتدائی تعارف ہیں۔ اگر آدمی کے اندر احساس آخرت زندہ ہو تو وہ ان ترقییوں میں جنت کی زیادہ ترقی یافتہ دنیا کی جھلک دیکھنے لگے۔ ۲ اپریل کی شام کو ۶ بجے انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۴۰۵ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ جہاز کے اناؤنسر نے اعلان کیا : ہم بمبئی جا رہے ہیں۔ بمبئی تک کی دوری ایک گھنٹہ ۴۵ منٹ میں پوری کی جائے گی ۔ یہ سن کر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کہنے والا کہہ رہا ہو کہ ہم آخرت کے سفر پر روانہ ہو رہے ہیں۔ دنیا سے آخرت تک کی دوری ایک گھنٹہ ۴۵ منٹ میں پوری کی جائے گی۔ میں نے سوچا کہ میری عمر تو اس سے زیادہ ہو چکی ۔ میرے لئے اب ہر لمحہ آخری لمحہ ہے۔ ہر وقت یہ اندیشہ ہے کہ میرا سفر مکمل ہو جائے اور اگلے سیکنڈ میری زندگی کی سواری آخرت کے عالم میں اتر جائے ۔ راستہ میں چند اخبارات دیکھے ۔ ایونٹنگ نیوز (۲ اپریل) کی ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ بابری مسجد تحریک سے وابستہ تمام مسلم لیڈر متفقہ طور پر یہ یقین رکھتے ہیں کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو بابری مسجد کے انہدام کے واقعہ میں وزیر اعظم نرسمہا راؤ خود شریک ہیں ۔ ان کی ملی بھگت سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں نے مسجد کو ڈھایا ۔ اسی کے ساتھ خبر میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ یہ مسلم لیڈر وزیر اعظم نرسمہا راؤ سے مل کر یہ مانگ کرنے والے ہیں کہ مسجد کو دوبارہ اس کی اصل جگہ (original site) پر بنایا جائے ۔ (صفحہ ۳) بابری مسجد کے نام پر اٹھنے والے ان مسلم لیڈروں سے اگر یہ کہا جائے کہ آپ لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی سے مانگ کیجئے کہ وہ مسجد کو دوبارہ وہیں بنائے تو وہ کہیں گے بھارتیہ جنتا پارٹی ہی نے تو مسجد کو ڈھایا ہے۔ پھر اس سے ہم کس طرح ایسی مانگ کر سکتے ہیں۔ مگر موجودہ حالات میں نرسمہا راؤ سے اس قسم کی مانگ کرنا اتنا ہی بے معنی ہے جتنا بھارتیہ جنتا پارٹی سے مانگ کرنا۔ کیوں کہ اس معاملہ میں دونوں کا معاملہ یکساں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان تمام نہاد لیڈروں کے لئے اب یہ کہنے کا موقع نہیں رہا کہ مسجد وہیں بناؤ"

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page